سفر یورپ 1924ء — Page 447
۴۴۷ آج کھانا شام کا حضور نے نمازوں سے پہلے کھایا اور نمازیں بہت دیر کے بعد ہوئیں۔کل رات جہاں حضرت اقدس نے مجلس مشاعرہ قائم رکھی تھی وہیں جا کر آج نماز میں ادا کی گئیں اور نمازوں کے بعد حضور اپنے کمرے میں تشریف لے گئے۔چوہدری علی محمد صاحب کو نسبتا آرام ہے۔۸/ نومبر ۱۹۲۴ء : تمام رات کی دوڑ کے بعد ساڑھے نو بجے ٹھیک چودہ گھنٹے کی محنت سے ہمارا جہاز سویز کے پورٹ پر پہنچ کر ذرا آگے کھلے سمندر میں کھڑا ہو گیا۔شیخ صاحب مع ایک نائیجیرین احمدی مسٹر شیا کے کشتی میں بیٹھے جہاز کا انتظار کر رہے تھے۔جہاز کو دیکھ کر خوش ہوئے اور ساتھ ساتھ ہو لئے مگر جہاز کی تیزی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔آخر جہاز کے قیام گاہ پر پہنچ کر اوپر پہنچے اور بہت محبت اور تپاک سے ملے۔مسٹر شیا جس کو لنڈن سے مصر بھیج دیا گیا تھا مصر میں پہنچ کر خطرناک بیماری میں مبتلا ہو چکا تھا اور جو ع البقر کی بیماری کی وجہ سے وہ شیخ محمود احمد صاحب کے لئے ایک نا قابل برداشت مہمان تھا جس کی خاطر شیخ صاحب موصوف نے بہت کچھ قربانی کی اور اپنے اکثر ضروریات کو فروخت کر کے بھی اس کی تواضع تیمار داری اور ہمدردی کی تھی۔اب اللہ کے فضل سے کچھ روبصحت تھا مگر بیماری کے اثر سے اس کی زبان قریباً بند تھی۔حضرت اقدس کے حضور حاضر ہوکر پہلے گھٹنوں کے بل گرا اور پھر قدموں پر ڈھیر ہو گیا اور زار و قطار روتا رہا۔حضور نے اس کو اُٹھا لیا اور وہ دوسرے دوستوں سے ملتا جلتا اور روتا ہی جاتا تھا۔چند عربی کتب ڈیک چیرز (Chairs) اور کچھ سامان عرفانی صاحب کا ان کے ساتھ تھا۔کتب حضرت اقدس کے واسطے لائے تھے۔پیش کیں اور مختصراً بعض حالات مصر عرض کئے اور بتایا کہ لنڈن کے حالات حضور کے متعلق ریوٹر ایجنسی کے ذریعہ مصر کے اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں اور ( البيت ) لنڈن کے سنگ بنیا د ر کھے جانے کے متعلق مقطم کے خاص نامہ نگار نے تار بھیجا اور لکھا کہ حقیقتاً اگر انگلستان میں کوئی عبادت گاہ کہلانے کی مستحق ہے تو یہی عبادت گاہ ہے۔جس کا خلیفہ اسیح نے سنگ بنیا د رکھا ہے وغیرہ۔جہاز چونکہ جلدی روانہ ہونے والا تھا لہذا حضرت میاں صاحب کا سامان پہلے نیچے بھیج دیا گیا اور حضرت میاں صاحب دوستوں سے ملنے میں مصروف ہو گئے۔سب سے ملنے کے بعد حضور سے ملے اور معانقہ کیا۔وہ نظارہ بہت ہی درد انگیز اور رقت آمیز تھا۔جبکہ دونوں بھائی ایک