سفر یورپ 1924ء — Page 399
۳۹۹ بعد واپس تشریف لائے ہیں۔جانے سے پہلے میں ناشتہ وغیرہ کرانے سے فارغ بھی نہ ہوا تھا کہ حکم دیا دو چیک دے کر کہ دوالگ الگ بنکوں سے روپیہ لے آؤں۔میں گیا اور روپیہ دوسو پونڈ لے کر مکان پر آیا تو حضور موجود نہ تھے بلکہ جاتے ہوئے سامان کے پیک کرنے کا کام بتا گئے جو اُس وقت سے لے کر اس وقت تک کہ 4 بجے ہیں کرتا رہا ہوں۔چوہدری علی محمد صاحب، خان صاحب اور یہ خاکسار تینوں آج بھی کام کرتے رہے ہیں۔باقی دوستوں نے بھی اپنا اپنا سامان بند کیا۔چوہدری فتح محمد خان صاحب جس دن سے لیکچر دے کر واپس آئے ہیں ( اتوار سے ) بیمار ہیں۔مولوی محمد دین صاحب برا بر دو دن بسترے پر رہے ہیں آج اُٹھے ہیں اور کچھ اچھے ہیں۔دل کا دورہ ہو گیا تھا۔حضرت میاں صاحب بھی کچھ ڈھیلے ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ فضل کرے اور سب کو صحت اور عافیت سے رکھے۔میاں رحمد بن بھی آج بیمار تھے اس وجہ سے آلو اور ڈبل روٹی پر ہی گزارہ کرایا گیا۔اب شام کے کھانے کے واسطے اُٹھے ہیں۔شیخ صاحب عرفانی اور چوہدری محمد شریف صاحب آج روس کے ملک کی ایک ریاست کے سفیر کے پاس ملاقات کو گئے۔ریاست کا نام ایستھو نیا ہے اور سفیر کا نام ہے عاسکر کیلر۔اچھی طرح سے ملا۔اس نے بتایا کہ میں احمدیت سے واقف ہوں۔اسلام کے دوسرے فرقوں کے متعلق تو ہماری یو نیورسٹی کی مذہبی شاخ میں ہمیں پڑھایا جاتا ہے۔احمدیت کے متعلق مجھے ایک ہنگری کے آدمی نے سنایا تھا اور کہا تھا کہ ایک نئی اور زبردست تحریک شروع ہوئی ہے اس کا نام احمدیت ہے۔اس نے کہا کہ آپ لوگ اگر ہماری یو نیورسٹی میں اپنا لٹریچر بھیجنا چاہیں تو میں بھیج سکتا ہوں مگر چونکہ میں خود ایک مذہبی آدمی ہوں لہذا دو دو نسخہ بھیجیں تا کہ ایک ایک وہاں بھیج دوں اور ایک ایک میرے واسطے رہے۔میں مطالعہ کروں گا۔بلکہ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ لوگوں کا کوئی لیکچرار ہماری یو نیورسٹی میں لیکچر دینا چاہے تو میں اس کا بھی انتظام کرا دوں گا۔اب اس وقت ملک غلام فرید صاحب کے روانہ کرنے کے واسطے روپیہ کا فیصلہ کیا جا رہا