سفر یورپ 1924ء — Page 377
۳۷۷ یہ ( البيت ) خدائے واحد کی عبادت کا ایک مقبول مرکز بنے۔نیر صاحب کہتے ہیں کہ انجینئر جو اس ڈسٹرکٹ کا ہے اس خبر سے بہت خوش تھا کہ اس کے علاقہ میں خدا کا گھر بنایا جائے گا۔اس نے کہا کہ یہ (البیت ) انگلینڈ میں دوسری ( البيت ) ہوگی۔اس پر نیر صاحب نے کہا کہ آپ کیوں نہیں کہتے کہ لنڈن میں پہلی ( البيت ) ہوگی۔اس پر وہ اور بھی خوش ہوا کہ ہاں یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ لنڈن میں پہلی ( البيت ) ہے۔چوہدری فتح محمد خان صاحب پیر تھ (Perth) جاتے ہیں جو ویلز کے علاقہ میں انگلینڈ کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔دو لیکچر ہوں گے ایک الہام الہی پر دوسرا اخلاق پر۔اللہ تعالیٰ ان کے کلام میں برکت دے اور لوگوں کے دلوں کو حق کے قبول کرنے کے لئے تیار کرے آمین۔حضرت اقدس کام ہوتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔حضور نے بچے کی پیدائش کی اطلاع کے تار کے جواب میں پہلے ارجنٹ (Urgent) تار تجویز فرمایا تھا مگر پیچھے خیال آگیا کہ کل اتوار ہے بہت زیادہ خرچ ہوگا۔آخر آرڈی نری (Ordinary) تا ر کا حکم دے دیا۔اُدھر چوہدری علی محمد صاحب نے چاہا کہ کسی طرح سے ان کا تار پہلے چلا جائے۔تار گھر کو دوڑے گئے اور نیت کی ارجنٹ تار۴ / فی لفظ کا دیں مگر نہ معلوم ان کا مطلب لوگ نہ سمجھے یا کوئی غلطی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ چھ شلنگ چھ پچیس فی ورڈ خرچ ہوں گے۔اس پر ان کو جرات نہ ہوئی اور لوٹے مگر پھر باہر جا کر آرڈی نری تار دے آئے ۱۰ آنہ فی لفظ پر۔اُمید ہے کہ دونوں تاریں اکٹھی ہی پہنچیں گی۔- بچے کا نام حضور نے حفیظ احمد رکھا۔اللہ کریم مبارک فرمائیں اور اک سے ہزار بنائیں آمین۔رات عشاء کی نماز کے بعد چوہدری علی محمد صاحب نے اس خوشی میں قافلہ کو مٹھائی کی دعوت دی اور انگریزی مٹھائی مثل چاکلیٹ اور بادام وغیرہ بہت عمدہ اور خوبصورت اتنی منگائی کہ بہت سی بیچ رہی کھائی نہ گئی۔دوستوں نے جیبوں میں بھر لی۔مٹھائی حضرت اقدس کے کمرے میں حضور کے سامنے رکھی گئی اور حضور نے اپنے ہاتھ سے تمام دوستوں کو دائیں طرف سے شروع کر کے تقسیم فرمانی شروع کی حتی کہ سب کو قریباً ایک ایک پلیٹ جدا جدا پہنچ گئی اور حضرت اقدس نے اپنا حصہ نہ رکھا بلکہ وہ مولوی عبد الرحیم صاحب درد کے واسطے رکھ دیا جو موجود نہ تھے مگر عرض کیا گیا کہ حضور ان کا