سفر یورپ 1924ء — Page 348
۳۴۸ کے بچہ کی پرورش پر انعام کون دے گا۔اس طرح یہ آئندہ بادشاہوں کا سردار ہونے والا بچہ ایک ایک کے سامنے پیش کیا گیا اور سب نے اس کے لے جانے سے انکار کر دیا مگر خدا تعالیٰ کی قدرتیں بھی عجیب ہوتی ہیں اس نے اس مبارک بچہ کی والدہ کا دل رکھنے کے لئے اور اس بچہ کے گاؤں میں پرورش پانے کے لئے اور سامان کر چھوڑے تھے۔یہ لوگ جو بچے لینے کے لئے آئے تھے ان میں ایک غریب عورت حلیمہ نامی بھی تھی جس طرح محمد ایک ایک عورت کے سامنے کئے جاتے تھے اور رڈ کر دئیے جاتے تھے اسی طرح وہ عورت ایک ایک گھر میں جاتی تھی اور رڈ کر دی جاتی تھی کیونکہ وہ غریب تھی اور کوئی شخص پسند نہ کرتا تھا کہ اس کا بچہ غرباء کے گھر پرورش پا کر تکلیف اُٹھائے۔یہ عورت مایوس ہو گئی تو اپنے ساتھ والیوں کے طعنوں سے ڈر کر اس نے ارادہ کیا کہ وہ آپ کو لے جائے چنا نچہ وہ آپ کو ساتھ لے گئی۔جب آپ نے کچھ ہوش سنبھالی تو آپ کی دائی آپ کو واپس ماں کے پاس چھوڑ گئی۔وہ ان کو اپنے ماں باپ کے گھر مدینہ لے گئیں اور وہاں کچھ عرصہ رہ کر جب مکہ کی طرف واپس آ رہی تھیں کہ راستہ ہی میں فوت ہو گئیں اور محمد چھ سال کی عمر میں اپنی ماں کی محبت بھری گود سے بھی محروم رہ گئے۔کسی نے آپ کو مکہ آپ کے دادا کے پاس پہنچا دیا جو دو سال کے بعد جب آپ آٹھ سال کے تھے فوت ہو گئے اور آپ کو اپنے چا ابو طالب نے اپنی کفالت میں لے لیا۔اس طرح یکے بعد دیگرے اپنے محبت کرنے والوں کی گود سے جدا ہوتے رہے حتی کہ آپ جوانی کو پہنچے۔جن گھروں میں آپ نے پرورش پائی وہ امیر گھر نہ تھے۔وہاں با قاعدہ میز بچھا کر کھانا نہیں ملتا تھا بلکہ مالی اور ملکی رواج کے ماتحت جس وقت کھانے کا وقت آتا بچے ماں کے گرد جمع ہو کر کھانے کے لئے شور مچا دیتے اور ہر ایک دوسرے سے زیادہ حصہ چھین لے جانے کی کوشش کرتا۔آپ کے چچا کی نوکر بیان کرتی ہے کہ آپ کی یہ عادت نہ تھی۔جس وقت گھر کے سب بچے چھینا جھپٹی میں مشغول ہوتے آپ ایک طرف خاموش ہو کر بیٹھ جاتے اور اس بات کی انتظار کرتے کہ چیچی خود آن کر کھانا دے اور جو کچھ آپ کو دیا جاتا اسے خوش ہو کر کھا لیتے۔جب آپ کی عمر ۲۰ سال کی ہوئی تو آپ ایک ایسی سوسائٹی میں شامل ہوئے جس کا ہر ایک ممبر اس امر کی قسم کھاتا تھا کہ اگر کوئی مظلوم خواہ کسی قوم کا ہوا سے مدد کے لئے بلائے گا تو وہ اس کی