سفر یورپ 1924ء — Page 333
۳۳۳ سے وہ کامیابی کا منہ دیکھ سکے۔مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ گورنمنٹ کچھ وقت سے نروس ہوئی ہوئی ہے جس وقت ہندو مسلمانوں میں فسادات شروع ہی ہوئے تھے میں نے پنجاب گورنمنٹ کو توجہ دلائی تھی کہ ملک میں فساد ہمیشہ نہیں رہ سکتا کچھ دن فساد ہو گا پھر لوگ اکٹھے ہو جائیں گے اور مسٹر گاندھی اس موقع کو کبھی نہیں جانے دیں گے اور لوگ یہ خیال کریں گے کہ اصل خیر خواہ ملک کے مسٹر گاندھی ہیں۔پس گورنمنٹ کو چاہیے کہ اس وقت خود دخل دے کر ہند و مسلمانوں کے جھگڑے کو ختم کر دے اور میں نے اس کے لئے اپنی جماعت کی خدمات بھی پیش کی تھیں کیونکہ ہم پہلے طرفین کے خیالات معلوم کر کے ابتدائی کام کر سکتے ہیں اور اگر ایسا ہو جاتا تو یقیناً لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جاتی کہ گورنمنٹ ان کی بچی بہی خواہ ہے اور عوام الناس جو ان جھگڑوں سے دل ہی دل میں تنگ ہیں اس کو ایک احسان سمجھتے مگر گورنمنٹ نے مجھے یہ جواب دیا کہ اگر ہم صلح کرانے کی کوشش کریں گے تو لوگ اس کو بد نیتی پر محمول کریں گے۔ایک حقیقی فائدہ کو نظر انداز کر کے ایک خیالی خطرہ کی اتباع کرنا صرف نروس نیس کی علامت ہے۔اب مسٹر گاندھی نے فاقہ کشی کا ڈراوا دیا اور یقیناً ملک کے اکثر لوگ محسوس کریں گے کہ گورنمنٹ فساد چاہتی تھی مگر مسٹر گاندھی نے اپنی جان کی قربانی دے کر ملک کو بچایا - گو بہت سی باتیں ہیں جن کی اصلاح سے موجودہ حالت کو بدلا جا سکتا ہے مگر ان کو ایک لیکچر میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے میں صرف ایک بات کو بیان کر دیتا ہوں اور وہ گورنمنٹ سے نہیں بلکہ اقوام سے تعلق رکھتی ہے۔میرے نزدیک اس وقت سب سے زیادہ مدد جو اس فساد کی اصلاح میں دے سکتا ہے وہ فرد ہے نہ گورنمنٹ - انگریز افسر جو ہندوستان کو بھیجا جاتا ہے اس کے ذہن میں اس بات کو خوب اچھی طرح ڈالنا چاہیے کہ اب ہندوستان کے احساسات بدل گئے ہیں۔اب ایک حاکم باپ کی طرح حکومت نہیں کر سکتا اب وہ ایک بھائی کی طرح اپنی بات منوا سکتا ہے۔آج سے پہلے ہندوستانی انگریز افسر کو ماں باپ کہتا تھا۔اب وہ باہر کے خیالات سے متاثر ہوکر اس کو بھائی کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے اور چاہیے کہ انگریز افسر جو ہمیشہ اپنے ملک کے فوائد کو مدنظر رکھ کر ضرورت زمانہ کے مطابق اپنے حالات بدلتا رہا ہے اب برادرانہ سلوک کو اختیار کرے اور عوام الناس میں مل کر رہے۔وہ