سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 332 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 332

۳۳۲ سوائے پنجاب کے جہاں ان کو بہت کم کامیابی ہوئی ہے۔دوسری غرض ان کی یہ ہے کہ جولوگ گورنمنٹ سے کو آپریٹ کرنا چاہتے ہیں ان کو جہاں تک ہو سکے کونسلوں سے نکال دیں تا کہ گورنمنٹ اور رعایا کا تعلق کمزور ہو جائے۔تیسری غرض ان کی یہ ہے کہ کو آپر یٹر ز کو نان کو آپریشن پر مجبور کریں اور وہ اس طرح کہ جب کوئی ایسا موقع آئے کہ جس میں ان کی رائے اعتدال پسندوں سے مل جائے تو اس وقت گورنمنٹ کو شکست دے کر اس کے غیر مقبول ہونے کو ظاہر کریں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی کونسلوں میں داخل ہونے کے بعد جو لوگ پہلے اشتراک فی العمل کے حامی تھے ان کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔پہلے تو وہ اتحاد کے خیال سے گورنمنٹ سے سمجھوتہ کر لیا کرتے تھے۔اب ان کے داخل ہونے کے سبب سے چونکہ ان کی اور نان کو آپریٹروں کی خدمات کا مقابلہ کرنے کا ملک کو موقع ملتا ہے اس لئے وہ اس پالیسی کو اختیار نہیں کر سکتے اور ان کو اپنی عزت اور اپنے نام کے خیال سے مجبوراً اس پہلی سودا کر نے والی پالیسی کو ترک کرنا پڑا ہے۔نتیجہ اس کا یہ ہوا ہے کہ ریفارم سے جو فائدہ مدنظر تھا وہ نکلتا نظر نہیں آتا جیسا کے سی پی - بنگال اور امپریل کونسل کے واقعات سے ظاہر ہے۔اگر گورنمنٹ بار بار پرانی کونسلوں کو منسوخ کر کے نئے انتخاب کرے گی تو تب بھی ان لوگوں کا فائدہ ہے کیونکہ اس صورت میں یہ پارٹی لوگوں سے کہے گی کہ دیکھ لو ہندوستان کو کوئی اختیارات نہیں دیئے گئے تھے جب کوئی بات گورنمنٹ کی رائے کے خلاف ہوئی اس نے کونسلوں کو ہی تو ڑ ایا اختیارات صرف دکھاوے کے تھے۔میرے نزدیک موجودہ حالات میں گورنمنٹ کے لئے اصل میں تو یہی راستہ کھلا ہے کہ ریفارم سکیم کی اصلاح کر کے اس کے بدنتائج سے محفوظ ہولیکن اگر یہ قابل عمل نہ سمجھا جائے تو پھر یہ چاہیے کہ جس ذریعہ سے لوگوں کو کامیابی ہوئی ہے اسی ذریعہ کو گورنمنٹ بھی اختیار کرلے اور وہ ذریعہ جو انہوں نے اختیار کیا ہے یہ ہے کہ وہ پبلک کے پاس اپیل کرتے ہیں۔گورنمنٹ کو بھی یہی ذریعہ اختیار کرنا چاہیے اور یہ موقع سب سے بہتر ہے۔اس وقت ملک کے لوگوں میں بین الاقوام فسادات کی وجہ سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ان کو برطانوی گورنمنٹ کی ابھی ضرورت باقی ہے۔پس اس وقت اگر گورنمنٹ عوام الناس کی طرف توجہ کرے تو وہ ملک کو اس سڑک پر چلا سکتی ہے جس