سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 328 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 328

۳۲۸ ایمپائر کے بدخواہ ابھی سے اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ مانٹیگو چمسفورڈ ریفارم سکیم اس کا علاج ہے۔میرے نزدیک جن اصول پر اس رپورٹ کی بنیاد ہے اور جس نیت سے یہ تیار کی گئی ہے وہ قابل تعریف ہے مگر میرے نزدیک اس سکیم میں بعض اصولی غلطیاں ایسی رہ گئی ہیں کہ یہ سکیم اپنی موجودہ حالت میں ہندوستان کی بیماری کا علاج نہیں ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ اس سے زیادہ اختیارات ہندوستانیوں کو دینے چاہئیں جو یہ سکیم دیتی ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ جس طریق سے اختیار دیئے گئے ہیں وہ درست نہیں بلکہ ان سے فساد پیدا ہوتا ہے۔جس وقت اس سکیم کو رائج کیا گیا ہے اس وقت اس کے متعلق میری رائے بھی لی گئی تھی اور میں نے جو رائے اس وقت دی تھی گو اس وقت کے حالات کے ماتحت کہ حکام میں ایک تسلی کی روح پھیلی ہوئی تھی قبولیت کے قابل نہیں سمجھی گئی تھی مگر بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ میری رائے درست تھی۔ریفارم سکیم نے ایک یہ اصل قرار دیا ہے کہ ہندوستانی ایلینڈ (Elected) ممبر کونسلوں میں زیادہ ہونے چاہئیں۔میرے نزدیک یہ غلط اصل تھا اور ایجی ٹیشن کی بنیاد یہیں سے رکھی گئی ہے۔میں نے اعتراض کیا تھا کہ ضرور ہے کہ مختلف موقعوں پر ہندوستانی ممبر گورنمنٹ کی رائے کے خلاف ہوں۔جب وہ خلاف ہوں گے اور گورنمنٹ کے مسودہ کو رد کر دیں گے یا اس کی رائے کے خلاف کوئی مسودہ پاس کریں گے اور گورنمنٹ اس کو قبول نہ کرے گی تو یقیناً ملک کے لوگ ہندوستانی ممبروں کے ساتھ ہوں گے اور اسی سے ایجی ٹیشن پیدا ہوگا اور اگر اس ایجی ٹیشن کے ڈر سے گورنمنٹ اس کو قبول کرلے گی تو گویا وہ خود اس اصل کو باطل کر دے گی کہ ابھی کچھ عرصہ کے لئے ہندوستانی کامل سیلف گورنمنٹ کے قابل نہیں ہیں۔ویٹو صرف اس جگہ کام دیتا ہے جہاں یہ تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ دارالنواب حکومت کی قابلیت رکھتا ہے۔لیکن کسی غیر معمولی موقع کے خیال سے ویٹو کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے اور چونکہ وہ شاذ و نادر ہوتا ہے اس لئے اس پر ملک اس قدر برافروختہ نہیں ہوتا مگر جہاں اعلیٰ اتھاریٹیز (Authorities) اس امر کو تسلیم کرتی ہیں کہ ابھی دار النواب حکومت کے قابل نہیں وہاں اس کو