سفر یورپ 1924ء — Page 322
۳۲۲ سے لوگوں کو نجات نہیں ہوئی۔ہند و برات اگر باجہ بجاتی ہوئی مسلمانوں کی مسجد کے سامنے سے گزر جائے تو وہ اس کو مارنے کو دوڑ پڑتے ہیں اور اگر مسلمان کسی ہندو مندر کے پاس سے اس طرح گزریں تو ہندوان پر حملہ کرتے ہیں۔محرم اور عید پر ہندولڑ پڑتے ہیں اور دسہرہ اور دیوالی پر مسلمان اور وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ فلاں پر وسیشن فلاں گلی سے کیوں گزرا اور فلاں شخص اپنے کھانے کیلئے گائے کا گوشت کیوں لایا۔دو سمجھدار قوموں کا ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے لڑنا کیا قابل تعجب نہیں ہے؟ ان حالات کو دیکھ کر لا ز ما ماننا پڑتا ہے کہ ہندوستان ابھی مکمل سیلف گورنمنٹ کے لئے تیار نہیں ہے۔وہ ابھی ایک ایسی قوم کی مدد کا محتاج ہے جو اول تو زبر دست جنگی طاقت رکھتی ہو۔تا کہ اسے خشکی اور تری کے حملوں سے بچائے کیونکہ بوجہ جنگی سامانوں کی عدم موجودگی کے اور فنون جنگ سے ناواقفی کے ہندوستان ابھی اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتا۔دوسرے وہ قوم ہندوستان سے باہر کی ہوتا کہ مختلف اقوام کے درمیان توازن کو قائم رکھ سکے اور کسی قوم کو اس کے خلاف یہ شکایت پیدا نہ ہو کہ وہ کسی کی رعایت کرتی ہے اور میرے نزدیک انگریزوں سے زیادہ اور کوئی قوم اس کے لئے مناسب نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ ہندوستانیوں کو جانتے ہیں اور ہندوستان ان کو جانتے ہیں۔یہ تصویر کا ایک رخ ہے مگر کبھی نتیجہ صحیح نہیں نکلتا جب تک کہ تصویر کے دونوں رخ نہ دیکھے جائیں۔اس لئے ہم کو ہندوستان کے حالات کا دوسرا رخ بھی دیکھنا چاہیے۔ہندوستان میں اب مغربی تعلیم کا چرچا پھیلتا جاتا ہے۔وہ لوگ جو پہلے اس کو گناہ سمجھ کر اس کے قریب نہیں جاتے تھے اب ضرورت سے مجبور ہو کر اس کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔مغربی تعلیم کے ساتھ ہی مغرب کی سیاسی آزادی اور اقتصادی ترقی اور علمی فروغ کا خوشنما منظر بھی لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آ رہا ہے۔وہ جو کچھ کہ کتب میں پڑھتے ہیں اس کو جب اپنے گرد و پیش نہیں دیکھتے تو قدرتاً ان کے دلوں کو تکلیف ہوتی ہے اور جس طرح اس شخص کا حال ہوتا ہے کہ جو اپنا کام دوسروں سے کرانے کا عادی ہوتا ہے اور جب کام اس کے نزدیک خراب ہو تو بغیر اس امر پر غور کرنے کے کہ حالات کی مجبوریوں کی وجہ سے وہ کام خراب ہوا ہے وہ اس کام کے کرنے والے کو برا کہنے لگتا ہے۔اسی طرح ہندوستانیوں کے دلوں میں گورنمنٹ کے خلاف جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی سستی کی