سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 306 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 306

۳۰۶ ساتھیوں کا انتخاب کیا گیا۔پس میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ میرا یورپ میں آنا ( دینِ حق ) کے لئے فتوحات اور ترقی کا اسی طرح سے پیش خیمہ ہے جس طرح سے حضرت مسیح موعود کے لئے جلسہ مہوتسو یعنی جلسہ اعظم مذاہب تھا جس کے لئے حضور نے اسلامی اصول کی فلاسفی لکھی تھی اور مذاہب عالم کے دنگل میں گویا وہ فتح نمایاں کا آغا ز تھا۔حضرت اقدس کے اس مضمون کا فوری اثر بھی گو بہت ہوا تھا اور لوگوں میں اس کا چرچا ہو گیا تھا مگر بعد میں جو نتائج اس کتاب کے ظاہر ہوئے اور جو برکات اس کے ہم اب محسوس کر رہے ہیں وہ اس وقت ایسے نمایاں نہ ہوئے تھے۔گو اس وقت بھی یہ اثر ضرور ہوا تھا کہ اسلام بھی دوسرے مذاہب کے مقابل میں آنے کی طاقت رکھتا ہے جو بد قسمتی سے اس وقت کے مسلمانوں کی رڈی حالت اور گرے ہوئے خیالات کی وجہ سے مایوسی کی حد تک پہنچ کر دوسرے مذاہب کی نظروں میں ذلیل اور حقیر ہو چکا تھا اور اب نہ صرف یہ کہ وہ اپنا بچاؤ کرتا ہے بلکہ دوسروں پر حملہ کرتا اور کامیاب حملہ کر کے فتح پاتا ہے۔گو یہ فوری اثر تو پیدا ہو گیا تھا مگر جو نتائج اس مضمون کے آج ہم دیکھ رہے ہیں وہ اس وقت ابھی دنیا کی آنکھوں سے اوجھل تھے اور ایک بیج کی طرح سے زمین میں دبے ہوئے اور پوشیدہ تھے۔بعینہ اسی طرح سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ماتحت میری یہ آمد اور اس کے برکات ( دین ) کے لئے انشاء اللہ تعالیٰ بتدریج مفید ہونگے۔جس طرح حضرت اقدس کے اس مضمون نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ یقین پیدا کر دیا تھا کہ ہم ( دین حق ) کے بچے اصولوں کو لے کر دنیا کے تمام مذاہب کے مقابلہ میں فتح پاسکتے ہیں اسی طرح سے ہمارے ان مضامین کا بھی انشاء اللہ تعالیٰ اثر ہوگا اور یورپین لوگ جب ان پر غور کریں گے تو ضرور ان صداقتوں اور حقیقتوں کے سامنے آخر سر جھکا دیں گے اور ایسا یقین جب کسی ایک مسلمان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے تو گویا وہ ایک نبی کے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے اگر دس کے دل میں پیدا ہو گیا تو گویا دس نبی دنیا میں آگئے اور اگر سو کے دل میں وہی یقین اور وثوق پیدا ہو گیا تو اس کے معنے ہوں گے کہ خدمت ( دین ) کے لئے گویا دنیا میں ایک سو نبی آ گیا۔انبیاء کا کیا کام ہوتا ہے یہی کہ وہ ایک یقین اور وثوق کے ساتھ دنیا میں آتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ آخر کا ر دنیا