سفر یورپ 1924ء — Page 298
۲۹۸ والوں کے لئے بھی ایسا ہی دلچسپ ہوگا جیسا کہ لکھنے والے کے لئے ہے۔شخصیت کی قدرو قیمت کیا بلحاظ خاص و عام میں ہر دلعزیزی حاصل ہونے اور کیا بلحاظ اس کے باریک در بار یک اثرات کے اس وقت سے ظہور پذیر ہونی شروع ہوگئی جب کانفرنس مذاہب کے افتتاح سے کچھ ہفتے قبل وکٹوریہ اسٹیشن پر جماعت احمدیہ کا وفد اُترا۔ایک درجن خوبصورت ہندوستانیوں کے سبز عماموں نے دفعہ ہر کس و ناکس کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کر لیا حتی کہ پریس کے نمائندگان جوق در جوق اس منظر کو دیکھنے کے لئے آ جمع ہوئے۔اس ( وفد ) کے صدر حضرت خلیفہ اسیح الحاج مرزا بشیر الدین محمود احمد تھے جو سفید عمامہ زیب سر کئے ہوئے تھے اور جنہوں نے بہت جلد ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیا۔پریس اور پبلک کو فوراً آپ کے آنے کا مقصد معلوم ہو گیا اور ہماری کانفرنس نے آپ کی ذات میں ایک بیش قیمت معاون پایا۔ہمارے ان مشرقی برادران کی ممتاز جماعت کا ( کانفرنس ہال میں ) روزانہ داخلہ اور متانت و سنجیدگی سے تمام لیکچروں کو سننا نیز ان کا اپنے انگریز رفقاء سے برادرانہ رابط و اتحاد ایک نہایت ہی خوش کن منظر تھا۔ان سبز عمامہ پوشوں میں سے ہر ایک نے گرانڈیل مسٹر ذوالفقار علی خاں سے لے کر صغیر الجسم مسٹر نیر جو قبل از میں لنڈن مسجد کے امام تھے تک نے اپنے دوستوں کا ایک ایک حلقہ بنا لیا۔ان سب نے ہمارے ساتھ نہایت ہی شرافت اور ملاطفت کا سلوک کیا اور ہم نے بھی ان سے ایسا ہی سلوک کرنے کی کوشش کی۔اگر چہ حضرت خلیفتہ المسیح کو انگریزی میں تقریر کرنے کی زیادہ مشق نہیں مگر آپ کی گفتگو نہایت ہی موزون اور دلر ہاتھی اور خاص کر آخری روز صدر جلسہ کی درخواست پر جب آپ نے اپنی مادری زبان میں آزادی کے ساتھ تقریر کی تو ہم نے ایک برقی اور روحانی شخصیت کے اثرات کا مشاہدہ کیا۔آپ کی چمکتی ہوئی آنکھیں ، آپ کی مردانہ آواز ، آپ کے منفی الفاظ کی رو،