سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 275 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 275

۲۷۵ بحرمت النبی وآلہ واصحابہ احباہ اجمعین برحمتک یا ارحم الرحمین۔اس خط کا جواب حافظ روشن علی صاحب افسر ڈاک نے لکھوایا ہے۔میں نے اس کو نقل مطابق اصل بنانے کی کوشش کی ہے۔مجھے بھی بعض الفاظ سمجھ میں نہیں آئے۔میں نے الفاظ کی شکل کی نقل کر دی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بخارا میں جماعت قائم کر دی ہے۔آج بھی حضرت قریباً صبح سے ہی مضمون کی درستی اور ترتیب میں مصروف ہیں۔4 بج چکے ہیں مگر ا بھی کام کر رہے ہیں۔طبیعت محنت سے تھک گئی ہے اور متلی شروع ہوگئی ہے۔حضور خود تشریف لائے اور فرمایا کہ ہلکا سا قہوہ بنالاؤ مجھے متلی ہونی شروع ہوگئی ہے۔فرمایا الا بچی ڈال کر بنائیں۔میں نے جلدی قہوہ پیش کیا۔ایک پیالی نوش فرمائی اور حضور نے دُھتا اوڑ ہا ہوا تھا۔کام برابر کر رہے تھے۔قہوہ پینے کے دوران میں ذکر فرماتے فرماتے فرمایا کہ میں نے تو اب فیصلہ کیا ہے کہ ۲۹ کے بعد خود کوئی لیکچر نہ دوں۔لیکچروں کا کام دوستوں کے سپر د کر دوں اور خود دو ایک آدمی ساتھ لے کر جو ملنے ملانے میں مدد کریں یہاں کے بڑے بڑے لوگوں سے خود ان کے گھروں پر جا کر ملوں یا ان کو یہاں اپنے گھر پر بلوا لیا کروں تا کہ اصل کام بھی تو کچھ ہو جو ہماری اصل غرض ہے۔فرمایا کہ اب تک ہمارے کام کی صرف آؤٹ لائن ہی شروع ہوئی ہے۔ملک کے مختلف حصص کے خواص ، امرا ، علماء اور فلاسفروں سے مل ملا کر ان کے حالات خیالات اور آراء کا مطالعہ کرنا اور پھر ان میں سے اشاعت ( دین ) کی راہیں نکالنی اور ایسی تجاویز پر غور کرنا کہ جن سے ان کا تمدن ان کے ایمان لانے کے بعد ( دین ) کو بدل ہی نہ دے وغیرہ وغیرہ باتوں پر غور کرنا تو ابھی باقی ہے۔فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں اس جگہ سے ۲۵ / یا ۲۶ را کتوبر ہی کو روانہ ہونا ہوگا۔کام کو ادھورا چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔پیرس میں نہ ٹھہریں گے۔واپسی کے ذکر پر حضور نے آج فرمایا کہ مختلف جماعتوں کی درخواستیں آ رہی ہیں۔مدراس - کلکتہ - حیدر آباد - کراچی۔لدھیانہ۔لاہور وغیرہ جماعتیں خواہش کرتی ہیں کہ ان کے راستہ سے جائیں اور ان کے ہاں ٹھہریں مگر ہمارا قادیان جاتے ہوئے جو ہمیشہ کا دستور ہے وہ ایسا ہے کہ بٹالہ سے اتر کر یکے والے کو جلدی چلنے کی تاکید کیا