سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 271 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 271

۲۷۱ میں نے فوراً یہی دیا کہ گورنمنٹ اگر مجھے کوئی خطاب دے تو میں اس کو اپنی ہتک یقین کروں گا پس میں جو کچھ کرتا ہوں کسی معاوضہ یا لالچ کی غرض سے نہیں بلکہ خدا کا حکم سمجھ کر اور اپنے امام کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کرتا ہوں۔اتفاق اور اتحاد کے متعلق یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب تک دل نہ ملیں اتفاق واتحاد کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔قلوب کے اتحاد سے جسموں کا اتفاق قائم رہ سکتا ہے۔پس ایسی خاص کوشش سے ایسے اصول طے کئے جائیں جن سے اول قلوب کا اتحاد ہو۔میں مانگنے اور سوال کرنے سے طبعاً نفرت کرتا ہوں۔مجھے اپنی چار پانچ سال تک کی عمر کا حال معلوم ہے کہ میں نے اپنے والدین سے بھی کبھی مانگ کر چیز نہیں لی تھی۔پس اگر ہند و مسلمانوں کا اتحاد ہو جائے تو پھر ہمیں گورنمنٹ سے سلف گورنمنٹ مانگنے کی حاجت ہی نہ رہ جائے گی۔غیر قوم اسی وقت تک حاکم رہتی ہے جب تک اندرونی اختلاف ہو۔جب ہمارا اختلاف اُٹھ جائے اور اتحاد قائم ہو جائے تو قانون قدرت کے ماتحت برٹش لوگ خود ہم کو چھوڑ کر چلے جائیں گے چہ جائیکہ ہم خود ان سے درخواست کریں اور ہاتھ پھیلائیں کہ وہ ہمیں آزاد کر دیں۔بالآ خر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان خیالات کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بخشے جو آپ لوگوں نے ظاہر کئے ہیں۔پچاس ساٹھ کا مجمع تھا۔لڑکوں نے نہایت ادب احترام اور اعزاز سے ساری کارروائی کی اور ہنر ہولی نس ہر ہولی نس سے حضور کو خطاب کرتے رہے۔کوئی بات ایسی نہیں ہوئی جس سے کسی قسم کا خیال پیدا ہوتا بلکہ حضرت اقدس کا خیال تھا کہ وہ لوگ سوالات کریں تو حضور بعض مسائل کو واضح کر کے سنا دیں مگر انہوں نے اس وقت کوئی سوال و جواب نہ کیا۔آپس میں ایک دوسرے سے محبت سے ملتے اور بے تکلفانہ ذکر اذکار کرتے رہے اور کل کے دن عصر کے بعد سے شام تک ایک ہندوستانی مجلس کا نظارہ لنڈن کی سرزمین میں بھی دکھائی دیا۔چائے وغیرہ سے انہوں نے تمام دوستوں کی اچھی طرح سے خدمت کی۔۱۶ ستمبر ۱۹۲۴ء: رات حضرت اقدس کا نفرنس والے مضمون کو رڈ و بدل فرماتے رہے اور دیر سے آرام کیا۔صبح کی نماز میں تشریف نہ لا سکے۔ناشتہ 9 بجے کے قریب حضور نے فرمایا اور ایک فوٹو گرافر کی درخواست پر فوٹو کے لئے ساڑھے نو بجے ڈرائینگ روم میں تشریف لائے۔ایک فوٹو