سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 270 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 270

۲۷۰ ثابت کر کے دکھائے۔پس مغرب تو در کنار مشرق کے بھی باقی حصوں پر انشاء اللہ تعالیٰ ( دینِ حق ) پھیل کر رہے گا اور ایسے غالب رنگ میں پھیلے گا کہ مذاہب کی جزئیات پر بھی اس کا نمایاں غلبہ ہو گا۔باقی رہا یہ امر کہ میں مذہبی کا نفرنس میں اصل صحیح اور بچے ( دین ) کو پیش کروں۔سو اس کے متعلق میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں یقیناً اسی ( دین ) کو اصل اور صحیح اور سچا سمجھتا ہوں جس کو میں پیش کروں گا اور میں منافقت کو نا پسند کرتا ہوں اس لئے میں کسی کے خوش کرنے کی خاطر کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا جس کو میں اپنے خیال میں صحیح نہیں جانتا۔(۳) ہندوستان کی آزادی اور اتفاق کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ میں ایک ایسے خاندان کا آدمی ہوں جس کو قریبا سات سو سال تک ہندوستان کے اکثر حصوں پر حکومت حاصل رہی ہے اور میرے دادا صاحب پر آ کر ختم ہوئی ہے۔گویا ہمارے خاندان میں وہ روایات ابھی تک بالکل تازہ ہیں جن کا حکومت اور آزادی سے تعلق ہے۔پس مجھ سے بڑھ کر آزادی کا خواہاں اور کوئی نہیں ہوسکتا لیکن چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالت میں برٹش گورنمنٹ ہندوستان کے لئے مفید ہے اس لئے میں اس کی وفاداری کی تعلیم دیتا ہوں اور خود وفاداری کرتا ہوں۔بعض لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہے کہ میں گورنمنٹ کا خوشامدی ہوں۔یا د رکھنا چاہیے کہ میں اور میری جماعت خوشامدی نہیں ہیں۔گورنمنٹ کی کئی چٹھیاں ہمارے خاندان کی عظمت کی بحالی کے متعلق ہمارے گھر میں موجود ہیں لیکن ہم نے کبھی گورنمنٹ کے نوٹس میں ان کو اس غرض کے لئے نہیں لانا چاہا کہ ہمارے حقوق بحال کئے جائیں۔ہماری نسبت بیسواں حصہ کم خدمات کرنے والوں نے گورنمنٹ سے انعامات، خطابات اور اراضیات حاصل کی ہیں لیکن ہم نے کبھی کوئی معاوضہ گورنمنٹ سے اپنی خدمات کا نہیں چاہا اور نہ چاہتے ہیں بلکہ اگر گورنمنٹ کچھ دینا بھی چاہتی ہے تو میں اس کو اپنی ہتک سمجھتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ہم کو دیا ہے۔وہ اس سے بہت بالا ہے اور دینوی گورنمنٹ کے عطا یا کو اس کے ساتھ شامل کرنا ان کی بے قدری اور توہین کے مترادف ہے۔پچھلے ہی دنوں میں ایک شخص نے دہلی سے مجھے لکھا جو کہ معلوم ہوتا تھا کہ وزراء کے اشارہ سے لکھا گیا تھا اگر آپ کو ہز ہولی نس کا خطاب دیا جاوے تو آپ کو بُرا تو معلوم نہ ہوگا۔اس کا جواب