سفر یورپ 1924ء — Page 265
۲۶۵ مجھے خود افسوس ہے کہ میں ایک ضروری حصہ ڈائری کو نہ لکھ سکوں گا اور نہ آپ بزرگوں تک پہنچا سکوں گا۔حضرت اقدس نہ لے جائیں اور میں کوئی بات نہ لکھ سکوں تو اور بات ہے مگر حضرت اقدس لے جائیں اور میں نہ جاسکوں یا ڈائری نہ لکھ سکوں یہ کچھ اور بات ہے۔مجھے اس محرومی کا سخت ہی صدمہ ہوگا۔۔نماز ظہر وعصر حضور نے آج جمع کرا دی ہے کیونکہ اس ٹی پارٹی سے نہ معلوم کب واپس آ سکیں گے۔نماز کے بعد بیٹھے تھے کہ فون ہوا۔معلوم ہوا کہ مذہبی کانفرنس کے سیکرٹری صاحب حضور کے مضمون کے متعلق مشورہ کو آنا چاہتے ہیں۔فرمایا ان سے کہہ دیا جائے کہ پونے چار بجے ہم ٹی پارٹی کو جارہے ہیں اس سے پہلے پہلے اگر وہ آ سکتے ہیں اور بات چیت کر سکتے ہیں تو آجائیں تا کہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں وہ ہمارے جلدی چلے جانے کو نا پسند کریں۔چنانچہ انہوں نے اسی بات کو منظور کیا اور مکان سے چل آئے ہیں۔حضرت اقدس کا مضمون مذہبی کا نفرنس والا ۶ ۹ صفحات ٹائپ پر ختم ہوا ہے۔وقت صرف ڈیڑھ گھنٹہ ہے جو اندازہ کیا گیا ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ میں ختم نہیں ہوسکتا۔اس کے لئے حضرت اقدس نے پہلے ہی فرمایا تھا کہ کچھ کم کر کے صرف ۶۰ صفحات ٹائپ کر کے پڑھنے کے واسطے رکھ لیے جائیں اور باقی ۳۶ صفحات کاٹ دیئے جائیں۔( قادیان کا مفصل تار متعلق شہادت مولوی نعمت اللہ خان صاحب آج کی ڈاک سے مشتمل بر حالات زبانی ڈاکٹر فضل کریم صاحب ڈاک کے ساتھ ہی ملا ہے جس کا مختصر خلاصہ حضور نے سنایا - ) سیکرٹری حضرت اقدس کے حضور آیا اور حضور کے مضمون پر نشان کر کے لے آیا کہ یہ حصص کاٹ دیئے جائیں۔ان میں سے اکثر وہی تفاصیل تھیں جو حضرت اقدس نے پہلے ہی کاٹنے کا ارادہ فرمایا تھا۔مضمون وہ دے گیا ہے کہ بدھ کے دن ۴ بجے عصر کو ہماری کمیٹی ہونے والی ہے اس کمیٹی کے اجلاس سے پہلے پہلے پھر ٹھیک کر کے اور فقرات کا جوڑ توڑ کر کے مجھے پہنچا دیا جائے۔حضرت اقدس نے مضمون رکھ لیا ہے اور فرمایا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ٹھیک کر کے وقت مقررہ تک پہنچا دیا جائے گا اور حضور خود مع جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور حافظ صاحب موٹر کے ذریعہ سے ٹی