سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 254 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 254

۲۵۴ سوال، عملہ میں تخفیف ، تنخواہوں میں تخفیف، جمع خرچ غرض ایجنسی کے متعلق تمام پہلوؤں پر مفصلاً گفتگو رہی۔ماسٹر ملک نواب دین صاحب کو ۱۳ پونڈ کسی ریزولیوشن کی بنا پر دیئے جاتے ہیں ؟ مکان ایجنسی اور اس کی لیز اور انگریز عورت کے رہنے کا سوال ، ( البيت ) کا فرنیچر اور بعض ضروریات کا ( البيت ) سے ایجنسی میں استعمال ہونا وغیرہ وغیر ہ گل امور پیش تھے۔مکان ( البيت ) کے متعلق بھی ذکر ہوتا رہا۔اس کی حالت- شکست وریخت- لوگوں کا بلا اجازت وہاں رہنا۔جنجوعہ صاحب کے چار قالین عید کے دن گم ہو گئے تھے۔مولوی مبارک علی صاحب کے زمانہ میں جن کے لئے ۶۰ پونڈ کا مطالبہ جنجوعہ صاحب یا ان کی بیوی کا۔(البیت ) کے مکان اور زمین کی فروخت کا سوال۔یا رکھ کر اس میں ( البیت) کے بنانے کی تجویز غرض اس کے متعلق بھی ہر پہلو زیر بحث رہا۔اور ایک موقع پر تو حضور نے فرمایا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انچارج مبلغین نے ان چیزوں کو اپنی پراپرٹی سمجھ کر استعمال کیا ہے یا جسے چاہا دے دیا ہے حالانکہ یہ قطعاً قطعاً ان کے لئے جائز نہ تھا۔بعض پلوں پر بھی حضور نے فرمایا کہ سلسلہ کے اموال کا لوگوں کے سامنے میں ذمہ دار اور جوابدہ ہوں کہ روپیہ حفاظت اور احتیاط سے خرچ ہو اور موقع ومحل پر ہو۔بعض پہلوں میں تین تین چار چار پونڈ کے ٹکٹ ڈاک درج ہیں وغیرہ وغیرہ۔مبلغین اور انچارج ایجنسی اور کارکنان کی تنخواہ اور گزارہ کا سوال تھا۔حضور نے اپنے تجربہ کی بنا پر زیادہ سے زیادہ ۷ یا ۸ یا حد۱۰ پونڈ ماہوار تجویز کئے۔حسب مداراج وضرورت اس پر نیر صاحب نے عرض کیا حضور یہ رقم کم ہے۔اخراجات بعض اوقات زیادہ ہو جاتے ہیں۔حضور نے خود دیکھ ہی لیا ہے کہ اخراجات کیسے بڑھے ہوئے ہیں۔نیر صاحب کا منشا کسی اعتراض کا نہ تھا بلکہ حقیقت کا اظہار تھا۔انہوں نے حضور کی ذات کے اخراجات کی طرف اشارہ کر دیا۔اس کو حضور نے ناپسند فرمایا اور فرمایا کہ میں اپنا ذاتی خرچ کرتا ہوں کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔میں جس قدر چا ہوں خرچ کروں۔میرے اخراجات پر دوسرے مبلغوں یا تجارت کے کارکنوں کے اخراجات کا قیاس کرنا سراسر غلطی ہے۔فرمایا میرے ذاتی اخراجات تو بہت کم ہو سکتے ہیں۔میں حج کے لئے بھی