سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 246 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 246

۲۴۶ تسلی ہوسکتی ہے۔اگر وہ پچھلے زمانوں میں نشان دکھایا کرتا تھا اور اب وہ ایسے نشان نہیں دکھاتا تو ہمیں اس سے کس طرح محبت ہو سکتی ہے۔اس کے تو یہ معنے ہیں کہ پرانے زمانے کے لوگ خدا کے پیارے تھے اور ہماری طرف اس کو کوئی توجہ نہیں۔کیا یہ خیال محبت پیدا کرنے کا موجب ہوسکتا ہے یا نفرت۔کیا ایسے خدا سے کوئی شخص تعلق پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جو خدا اپنا دروازہ ہمارے منہ پر بند کرتا ہے۔ہم یہ بھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ جب کہ انسان روز بروز علمی ترقی کی طرف جا رہا ہے، خدا تعالیٰ کی قوتیں باطل ہورہی ہیں کیونکہ گوہم یہ نہیں مان سکتے کہ خدا تعالیٰ کی قوتیں ترقی کر رہی ہیں مگر ہم یہ بھی نہیں مان سکتے کہ اس کی صفات میں ضعف پیدا ہورہا ہے۔اس کا کمال اس کے غیر مبدل ہونے میں ہے۔تبدیلی خواہ بہتری کی طرف ہو خواہ تنزل کی طرف نقص پر دلالت کرتی ہے اور نقص سے اس کی ذات پاک ہے۔فطرت انسانی اس امر پر گواہی دے رہی ہے کہ اسے اوپر سے کوئی ہدایت ملنی چاہیے اور سیر چویل (Spirtual) سوسائیٹیاں جو ہزاروں کی تعداد میں دنیا میں قائم ہو چکی ہیں اس امر پر شاہد ہیں کہ انسان اس دنیا کے علم پر قانع نہیں مگر کیا ہم یقین کر سکیں گے کہ ہمارے آباء کی روحیں تو ہمیں ترقی کی طرف لے جانے کی فکر میں ہیں مگر وہ ہستی جو سب روحوں کی خالق ہے اور جس نے ہمیں اسی لئے پیدا کیا ہے کہ ہم اس کا قرب حاصل کریں ہماری ترقی کی کوئی فکر نہیں کرتی اور ہمارے لئے اپنے سے ملنے کا کوئی راستہ نہیں کھولتی ؟ ہر گز نہیں۔اگر کسی کو ہماری ترقی کا فکر ہو سکتا ہے۔اگر کسی کو ہم سے ملاقات کا خیال ہو سکتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔بے شک خدا تعالیٰ سے یگانگت کے لئے شرطیں ہونی چاہئیں۔بے شک اس سے وصال کے لئے بندہ میں ایک خاص قسم کی پاکیزگی کا وجود ہونا ضروری ہے۔بے شک اس کا دروازہ کھلنے سے پہلے ہماری طرف سے دستک ملنی چاہیے مگر بہر حال اس کا دروازہ کھلنے کا امکان ہر وقت موجود رہنا چاہیے اور مسیح موعود خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام لایا ہے کہ یہ امکان موجود ہے اگر تم چاہو اور میری بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کرو تو آج بھی تم میرے کلام کو اسی طرح سن سکتے ہو جس طرح کہ پہلے لوگ سن سکتے تھے اور آج بھی تمہارے لئے میں اپنی طاقتوں کو اسی طرح ظاہر کر سکتا ہوں جس طرح پہلے لوگوں کے لئے کیا کرتا تھا۔