سفر یورپ 1924ء — Page 243
۲۴۳ کو نظر انداز نہ کر دیں۔غرض ہمارا ہر اک عمل خدا تعالیٰ کے لیے ہو جائے اور اس کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہ رہے۔یہی وہ تو حید ہے جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے اور یہی وہ تو حید ہے جو دنیا کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے کیونکہ یہ صرف پتھروں کے بتوں سے ہی ہمیں نجات نہیں دلاتی بلکہ خواہشات اور نفرت کے بتوں سے بھی ہم کو نجات دلاتی ہے اور دنیا میں بھی امن قائم کر دیتی ہے۔دوسرا ضروری امر جو اس پیغام میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی نجات کا واحد ذریعہ قرآن کریم کا بتایا ہوا قانون ہے۔اس میں ہر اک ضروری امر کو جو روحانیت اور اخلاق سے تعلق رکھتا ہے۔بیان کر دیا گیا ہے۔وہی ایک تعلیم ہے جس پر عمل کر کے انسان خدا کی رضا کو حاصل کر سکتا ہے۔پس دنیا کو اپنی مشکلات کے حل کرنے کے لئے اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔تیسرا ضروری امر جو اس پیغام میں بیان ہوا ہے یہ ہے کہ ایک مکمل قانون کے بیان ہو جانے کے یہ معنے نہیں کہ خدا کا پیغام آنا آئندہ کے لئے بند ہو جائے۔خدا کا پیغام صرف شریعت کے قانون پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ وہ صرف لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانے کے لئے آتا ہے۔وہ فرما تا ہے کہ میں جب کبھی بھی لوگ مجھ سے دور ہو جائیں ان کو اپنی طرف بلاتا ہوں۔خدا کا اپنے بندوں سے کلام کرنا محبت کی ایک علامت ہے اور وہ اپنی محبت کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں کرتا کیونکہ اگر انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کو پالے اور اس کی رضا حاصل کر لے تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ملنے کا دروازہ بند کر دیا جائے۔یہ کہنا کافی نہیں ہوسکتا کہ انسان مرنے کے بعد خدا کو مل جائے گا کیونکہ اگر دنیا میں صرف ایک ہی مذہب اور ایک ہی خیال ہوتا۔تب تو یہ جواب کچھ تسلی دے بھی سکتا تھا مگر دنیا میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مذہب ہیں اور سب اس امر کے مدعی ہیں کہ ان پر چل کر انسان خدا تعالیٰ سے مل سکتا ہے تو اگر خدا تعالیٰ کے ملنے کا علم مرنے کے بعد ہوتا ہے تو اس دنیا میں جو دار العمل ہے انسان کے پاس سچائی دکھانے کا کونسا موقع رہا اور آخرت میں سچائی کے معلوم ہونے کا کیا فائدہ؟ وہاں سے انسان دوبارہ تو نہیں آ سکتا کہ اپنی اصلاح کرے پس وہاں کا علم نفع بخش نہیں ہو سکتا۔پس ضروری ہے کہ اسی دنیا میں خدا کی رضا کے معلوم ہو جانے کا کوئی یقینی ذریعہ موجود ہو اور وہ ذریعہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات کی جلوہ گری ہے۔چنانچہ آپ کا دعویٰ تھا کہ یہ باتیں اسی طرح جس طرح پہلے نبیوں کو حاصل تھیں مجھے حاصل ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ