سفر یورپ 1924ء — Page 13
۱۳ ۱۵ / جولائی جہاز کا پہلا دن اور بحری تکالیف کی ابتدا : ۱۵؍ جولائی ۱۹۲۴ء کی صبح کو پونے کو بجے ہمارا جہاز ساحل سمندر سے روانہ ہوا۔اس دن کی صبح ہی سے غالبا لمبے سفر کی کوفت کے باعث اور اسی شب کو بیداری بھی ہوئی ان وجوہات سے حضور کو در دسر کا دورہ تھا چنانچہ صبح کی نماز کے بعد حضور کی خدمت میں چائے پیش کی گئی تو حضور نے نوش نہ فرمائی کیونکہ یہ دن حضور کے سر درد کے دورہ کا دن تھا۔جہاز جب روانہ ہو گیا تو حضور نے فرمایا کہ معلوم کرو کہ اس میں بے تار خبر رسانی کا آلہ بھی ہے؟ پھر فرمایا کہ اگر یہ ریل گاڑی ہوتی تو میں ضرور گاڑی کو ٹھہرانے کی زنجیر کھینچ لیتا۔مجھے کچھ ایسی سخت تکلیف ہے مگر یہ جہاز ہے کچھ ہو نہیں سکتا۔ساحل سمندر کے قریب قریب جس کو بمبئی کا پانی بولتے ہیں سفید رنگ کا پانی تھا جو دو تین گھنٹہ تک رہا۔اس کے بعد پانی کا رنگ بدل گیا اور نیلا پانی آ گیا جو عصر کے بعد تک رہا۔اس کے بعد پانی فیروزہ رنگ کا ہو گیا۔بمبئی سے روانگی کے قریباً پانچ گھنٹہ بعد ہمیں ایک جہاز عدن سے بمبئی کو آتا ہوا نظر آیا جس کو دیکھ کر لوگ بہت خوش ہوئے۔اسی دن شام سے پہلے ہمارے مکرم چوہدری محمد شریف صاحب طالب علم لاء کالج لا ہور کو سی سک نس (Sea Sickness) ہوئی۔انہوں نے قے کی اور بہت گھبرائے۔حوصلہ دلانے پر بھی نہ سنبھلے اور کہا کہ ”جو ہونا تھا سو ہو گیا اب کیا ہوسکتا ہے۔“ ان کی دیکھا دیکھی ان کے دوسرے سیکنڈ کلاس ساتھی بھی ان کی تقلید کرنے لگے اور چاروں طرف سے آغوآ غو کی آوازیں آنی شروع ہو گئیں اور قریباً سب نے گوشہ گزینی اختیار کرنی شروع کر دی۔حضرت کی طبیعت بھی صبح سے ہی خراب تھی ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے حضور نے پڑھائیں۔اس کے بعد طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔حضور سب سے بالائی منزل میں جہاں فرسٹ کلاس ڈرائینگ روم ہے تشریف لے گئے۔میں اور چوہدری علی محمد صاحب بھی ساتھ گئے اور اچھی طرح سے خدمت کی۔حضور کی طبیعت صاف ہو گئی اور ہمیں آرام کرنے کا حکم دیا اور حضور خود اپنے