سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 6 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 6

۶ غالباً کلکتہ میں نے اور بھی زیادہ لیٹ کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سہارنپور سے وہ گاری جو د ہلی کو جاتی تھی ہماری گاڑی کے پہنچنے سے پہلے روانہ ہوگئی اور اس طرح سے ہم لوگ بمبئی میل کی اس گاڑی کو جو براستہ بی۔بی اینڈ سی۔آئی آکر جاتی تھی پکڑنے کے نا قابل ہو گئے۔برستی بارش میں آخر سہارنپور کے یارڈ سے سامان ریز روگاڑی سے نکال کر پلیٹ فارم پر پہنچایا گیا اور چند گھنٹہ دوسری گاڑی کا انتظار کرنا پڑا۔جی۔آئی۔پی کی بمبئی میں ساڑھے چار بجے صبح کے سہارنپورٹیشن پر پہنچی اور فوراً جلدی سامان گاڑی میں رکھ دیا گیا۔حضور مع خدام سوار بھی ہو گئے۔گاڑی سہارنپور سے روانہ بھی ہو گئی۔میں سامان کی دیکھ بھال میں اور جانچ پڑتال میں رہا۔دوسرے سٹیشن پر جا کر دوباتیں معلوم ہوئیں۔اول تو یہ کہ جس گاڑی میں ہم لوگ سامان رکھ کر سوار ہیں وہ دہلی میں کٹ جائے گی۔تھرو (Through) بمبئی نہیں جائے گی۔دوسرے یہ کہ صاحبزادہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب سلمہ ربہ اور بابو فخر الدین صاحب ملتانی دونوں سہارنپور سے واپس قادیان تشریف لے گئے ہیں تا کہ نماز عید قادیان میں گزار سکیں۔مجھے دوسری بات کا سخت صدمہ ہوا اور اب تک ہے اور غالباً اس وقت تک رہے گا کہ اللہ کریم مجھے دوبارہ واپس قادیان لا کر صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلمہ رتبہ کی زیارت و ملاقات کا شرف نصیب کرے۔گو مجھے خیال تھا کہ حضرت میاں صاحب سہارنپور سے واپس جانے والے ہیں مگر یقین نہ تھا۔میں نے حضرت میاں صاحب سے معلوم بھی کیا مگر آپ نے فرمایا کہ فیصلہ نہیں گو ارادہ ہے کہ اسی جگہ سے واپس چلے جائیں۔میں کام کی مصروفیت کی وجہ سے ان کی ملاقات سے محروم رہا جس کا مجھے سخت ہی افسوس اور گہرا صدمہ ہے۔اللہ کرے کہ پھر بخیریت واپس قادیان آؤں اور ان کی زیارت سے فیضیاب ہو سکوں۔آمین۔دوسری گھبراہٹ یہ ہوئی کہ دہلی پہنچنے سے پہلے پہلے پھر تمام سامان اور سواریاں کسی ایسی گاڑی میں تبدیل کر لی جائیں جو تھرو (Through) بمبئی جانے والی ہو چنانچہ مظفر نگر کے سٹیشن ہی سے ایسا تغیر وتبدل شروع کر دیا گیا اور اللہ کے احسان سے دہلی پہنچتے پہنچتے ہم لوگ مع تمام سامان کے ایسی گاڑیوں میں چلے گئے جو سیدھی بمبئی جانے والی تھیں اور اس طرح سے وہ گھبراہٹ خدا نے دور کر دی۔