سفر یورپ 1924ء — Page 151
۱۵۱ عدیم المثال شان اور کمالات رکھتا ہے۔ایک طرف اس کی عظمت اور جبروت اور سطوت کو خیال کرتا ہوں۔دوسری طرف صحابہ کرام رضوان اللہ یھم اجمعین کے کارناموں کو ذہن میں لاتا ہوں تو بس ایک خدائے واحد کی ذات کے سوا کوئی چیز درمیان میں باقی ہی نہیں رہتی اور یقین بھرے دل، وثوق بھرے قلب اور ایک غیر متزلزل عرفان سے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یقیناً یقیناً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہاتھ نہ تھا جو روما کی سلطنت کے خلاف اُٹھا بلکہ وہ یقیناً خدائے قیوم اور صاحب العزت والعظمت والہیت والقدرت والجبروت کا اپنا ہاتھ تھا جو صداقت اسلام کے لئے روما کی شاندار اور پُر شوکت سلطنت کے خلاف اُٹھا اور جس نے خدا کی ہستی کا ثبوت اس رنگ میں بھی دکھایا تھا - اللهم صل على محمدٍ وعلى آل محمد كما صليت وسلمت وباركت على ابراهيم و علی ال ابراهیم انک حمید مجید اس شہر کے لوگ کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے کیا بڑے اور کیا چھوٹے سبھی ہمیں پر لے درجے کی حیرت اور استعجاب سے دیکھتے ہیں۔جہاں ذرا کھڑے ہوں بیسیوں گر د جمع ہو جاتے ہیں مگر چونکہ اختلاف لسانی حائل ہے اس وجہ سے ان کی اور ہماری بھی دل کی دل ہی میں رہ جاتی ہیں ور نہ ان کے چہروں سے ٹپکتا ہے اور ان کے اعضاء کی حرکات بتاتی ہیں کہ ان کے دلوں میں ہماری محبت ہے اور ان کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ ان کے دلوں میں ہماری عزت ہے۔بعض جگہ ٹوپی کے اشارے سے اور اکثر ہاتھ کے اشاروں سے سلام کا طریق استعمال کرتے نظر آتے ہیں اور بڑی حد تک مہذب اور ملنسار اور خلیق معلوم دیتے ہیں۔اگر ان کو زبان ملتی جس سے وہ اپنا مافی الضمیر ظاہر کر سکتے تو غالباً ہمیں گلیوں میں چلنا بھی مشکل ہو جاتا اور ہم ان کے استفسارات کا جواب دینے کی - طاقت نہ پاتے۔باوجود جاننے کے کہ نہ ہم ان کی زبان سمجھتے ہیں اور نہ وہ ہماری بات سمجھتے ہیں پاس کھڑے ہوتے ہی ہمیں اپنی زبان میں مخاطب کر لیتے ہیں اور باتیں کرتے چلے جاتے ہیں جن کو ہم کھڑے سنتے رہتے اور ان کے چہروں کو تکتے رہتے ہیں یہ لوگ انگریزوں کے اخلاق کے شاکی ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ خود پسند ہیں اور مطلب کے یار - برخلاف اس کے اپنے آپ کو زیادہ ملنسار اور خیر خواہ اور نفع رسان وجود ظاہر کرتے ہیں۔میں اس قدر لکھ چکا تھا ۸ بجے ٹھیک حضرت اقدس کے حکم کے مطابق حضور کے دروازہ پر