سفر یورپ 1924ء — Page 120
۱۲۰ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے ہم لوگ پورٹ سعید سے کوئی سامان خوردنی نہ خرید سکے تھے اور بالکل خالی ہاتھ جہاز میں داخل ہوئے پہلی رات بھی اکثر بھو کے ہی تھے بھوکے ہی داخل جہاز ہوئے۔پھر دن بھر کھانا نہ مل سکا کیونکہ تھرڈ کلاس چھ آدمیوں کے ٹکٹ بغیر خوراک تھے اور حضرت اقدس کے بار بار حکم دینے پر بمشکل ۵ بجے شام خشک رسد کا انتظام ہوا۔رسد بھی خراب تھی الہذا آئندہ احمدی احباب جو تھرڈ کلاس میں سفر کرنا چاہیں اپنا انتظام کر کے خوراک سامان ساتھ لے کر روانہ ہوا کریں۔۹ روٹی نصف آنہ والی ۴ سیر چاول موٹے ۳۰ سیر گوشت ، ایک سیر آلو اور ۱۲ چھٹا نک مکھن کے ہم لوگوں کو جہاز میں بارہ روپے دینے پڑے ہیں۔سارے سمندری سفر میں آج شام جس حصہ سمندر میں سے ہمارا جہاز پلسنا گزرا ہے۔نہایت ہی خوبصورت اور دلکش مناظر کا مجموعہ ہے۔یونان کے جزائر کی پہاڑیاں دونوں طرف کھڑی ہیں کہیں کہیں آبادی بھی نظر آتی ہے۔انگور کے کھیت جابجا بچھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔زیتون کے جنگلوں کے جنگل کھڑے ہیں۔بعض بعض جگہ سڑو کے بلند بالا نو کیلے خوبصورت درخت پہاڑی مناظر کو اور بھی خوبصورت بناتے ہیں۔نہر سویز انسانوں نے بنائی مگر یہ نہر قدرتاً ایسی خوبصورت ہے کہ اس کا کسی رنگ میں بھی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔میلوں میل تک دورویہ پہاڑیاں چلی گئی ہیں جن کا درمیانی فاصلہ بمشکل میل ڈیڑھ میل ہو گا۔دیہات کے مکانات نظر آتے ہیں۔آگ جلتی دکھائی دیتی ہے۔انگور کے کھیت اچھی طرح نظر آتے ہیں۔سڑکیں اور درخت نظر پڑتے ہیں۔مکانات کے شیشے تک چمکتے دکھائی دیتے ہیں مگر نہیں نظر آتا تو کوئی آدم زاد نہیں دکھائی دیتا حیرت ہی ہوتی ہے کہ یہ کیوں ؟ غرض بہت ہی دلکش سین ہے یا ہمیں لمبے سمندری سفر سے اُکتا جانے کی وجہ سے یہ سماں زیادہ خوبصورت دکھائی دیا ہے۔آج شام کے وقت حضرت اقدس نے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو بلوا کر حکم دیا کہ تمام دوستوں کو حکم دیں کہ اب ہم یورپ میں داخل ہو رہے ہیں لہذا اپنے اوقات کو لطیفہ بازی میں نہ