صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 53
شروع ہوا۔دوران مباحثہ پنڈت صاحب نے اس کی اخبار میں اشاعت کی تجویز پیش کی جس پر حضرت اقدس نے اتفاق رائے کرتے ہوئے یہ تجویز فرمائی کہ ثالث مقرر کئے جائیں ایک انگریز اور ایک برہمو سماجی جو ہر ایک فریق کی دلیل اپنے بیان سے توڑیں یا سجال رکھیں تاکہ قارئین کو اصل نتیجہ میں پہنچنے میں آسانی ہو۔یہ تجویز سن کہ پنڈت صاحب سکتے میں آگئے اور انہوں نے یہ تجویز قبول کرنے کے بجائے صرف گزشتہ خط و کتابت ہی شائع کر کے بالکل سکوت اختیار کر لیا۔سوال ۱۵۳ اسلام کو غیر مذاہب والوں کے حملوں کے نشانے سے بچانے کے لئے آپ نے کیا تجویز سوچی ؟ جواب آپ کے دل میں یہ غیبی تحریک پیدا ہوئی کہ دین مصطفے کے لئے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے جس میں باطل کے اس مرکب حملہ کا علمی ، عملی، عقلی اور منقولی بھی سہتھیاروں سے دندان شکن جواب دیا جائے جن کے مقابلے سے مخالف عاجز ہوں اور آئندہ ان کو اسلام کے مقابلے کی جرات ہی نہ ہو اور اگر وہ مقابلہ کر دیں تو ہر سلمان ان کے حملے کو رد کر سکے۔سوال ۱۵۴ اس عظیم الشان تصنیف کا کیا نام ہے ؟ جواب سوال ۱۵۵ جواب اس عظیم انسان کتاب کا نام " براہین احمدیہ ہے۔براہین احمدیہ کی پہلی جلد کا موضوع کیا ہے ؟ براہین احمدیہ کی پہلی جلد کا بیشتر حصہ اشتہار پر مشتمل تھا لیکن اس میں بھی صداقت اسلام ثابت کرنے کے لئے ایسے اصول بتائے گئے تھے کہ جس نے بھی دیکھا آپ کی تصنیف پر عش عش کر اٹھا اور اس کتاب کی عظمت کا قائل ہو گیا۔سوال ۱۵۶ آپ نے مذاہب عالم کو کیا چیلنج دیا ؟ جواب جب اس کتاب کا پہلا حصہ شائع ہوا تو آپ نے مذاہب عالم کو دس ہزار روپیہ کا انعامی چیلنج دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دلائل کا جو قرآن مجید سے اخذ کر کے پیش فرمائے