صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 40
بھیج دیا کرو۔الہام تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا۔۔۔۔کس موقعہ سوال ١٠١ پر ہوا ؟ جواب ۱۸۶۸ء یا ۶۹ ۸ ریر کا واقعہ ہے مولوی محمد مین صاحب بیانوی رتی سے تحصیل علم کے بعد اپنے وطن بٹالہ واپس آئے۔حضرت اقدس را آپ پر سلامتی ہو) ایک دن ایک شخص کے اصرار پر تبادلۂ خیالات کے لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مکان پر تشریف لے گئے جہاں ایک ہجوم مباحثہ کے لئے بے تاب منھا حضرت اقدس نے مولودی صاحب سے پوچھا کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے ؟ مولوی صاحب نے کہا کہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن مجید سب سے مقدم ہے اور اس کے بعد قول رسول ہے۔کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مقابل کسی انسان کی بات قابل حجت نہیں۔آپ نے بے ساختہ فرمایا کہ آپ کا یہ اعتقاد معقول اور ناقابل اعتراض ہے۔حضرت اقدس (آپ پر سلامتی ہو) کا یہ فرمانا تھا کہ لوگوں نے شور مچا دیا۔" ہار گئے ، ہار گئے ، آپ کو ہ وقار بنے رہے اور فرمایا کیا ہیں یہ کہہ دوں کہ اُمت کے کسی فرد کا قول حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وستم کے قول پر مقدم ہے ؟ " چونکہ آپ نے یہ دست کشی خالصتاً خدا اور رسول کی رضا کی خاطر کی تھی جو دنیا ئے مناظرہ میں اپنی طرز کی پہلی مثال ہے۔اس پر خالق ہے کائنات نے بھی عرش سے خوشنودی کا اظہار فرمایا اور الہاما خبر دی یا تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا۔اور وہ تجھے برکت پر برکت دے گا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔" اس الہام کے بعد آپ کو کیا کشفی نظارہ دکھایا گیا ؟ سوال ۱۰۲ جواب اس الہام کے بعد حضرت اقدس (آپ پر سلامتی ہوا کوکشفی رنگ میں دہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور چھ سات سے کم نہ تھے۔ان بادشاہوں میں ہندوستان ، عرب، ایران، شام اور روم کے بادشاہ تھے۔اس نظارے کے بعد خدا تعالٰی کی طرف سے آپ کو یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ تیری تصدیق کریں گے اور تجھ پر ایمان