صد سالہ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 228 of 443

صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 228

جماعت کے خلاف بہت گندہ دہنی کی گئی۔اس میں گواہی کے لئے حضور کو جانا پڑا۔سوال ٩٩٨ وسط ۱۹۳۵ ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک اور زبردست پیش گوئی کی تھی۔تباہیے اس کے الفاظ کیا تھے ؟ جواب فرمایا۔۔۔۔۔۔۔زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے اور میں ان کی شکست کو ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے ہیں اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں اتنی ہی نمایاں مجھے ان کی موت دکھائی دیتی ہے سوال ۹۹۹ قادیان میں اور اس نے فساد کرانے کی منصوبہ بندی کی جس کے نتیجے میں احمدیوں کو کئی سختیاں برداشت کرنی پڑیں۔مگر ۸ جولائی ۱۹۳۵ء کو وہ کون سا واقعہ تھا میں نے احمدیوں کے غم و غصے کو انتہا تک پہنچا دیا ؟ جواب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب پر قاتلانہ حملہ - سوال ۱۰۰۰ مسجد شہید گنج کی سکھوں کے ہاتھوں مسماری پر مجلس احرار نے مسلمان احتجاج کرنے والوں کے جانی نقصان پر کیا ردعمل کا اظہار کیا ؟ جواب ان کی مورت کو حرام موت کہا اور مکمل توصیفی ظاہر کی کیونکہ وہ ملکی انتخابات میں در پردہ ہندو سکھوں سے گٹھ جوڑ کر چکے تھے۔اس بے حسی پر ان کے عزائم کے پردے چاک ہو گئے۔اور پھر انتخابات میں بھی انہیں شکست فاش ہوئی۔سب احراری نمائندے ہار گئے۔سوال ۱۰۰۱ مولانا ظفر علی خان مدیر زمیندار نے احرار کو کس طرح تماڑا ؟ جواب انہوں نے اخبار زمیندار میں احرار کے خلاف زیر دست مضامین لکھے اور نظمیں شائع کہیں نیز اپنی ایک تقریر میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ قادیانیت کی آڑ میں غریب مسلمانوں کا پیسہ ہڑپ کیا جا رہا ہے۔مرزا محمود کے پاس قرآن کا علم ہے مبلغ ہیں۔علوم کے ماہر ہیں۔اور احرار تو قرآن کے سادہ حروف بھی نہیں پڑھ سکتے۔مرزائیوں کو گالیاں دنیا تبلیغ اسلام نہیں ہے۔مولانا نے بہ تقریرہ مسجد خیر الدین 鲔