صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 189
۲۱۳ جواب سر محمد اقبال صاحب۔سوال ۸۰۷ متحد ۱۹۲۴ ء میں خسارات لاہور میں جماعت احمدیہ نے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے کیا کر دار اد اکیا ؟ جواب لاہور میں مظلوم مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا گیا تو حضور نے حضرت ذالفقار علی خان صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت مولوی فضل دین صاحب وکیل کو لاہور روانہ کیا۔انہوں نے بیت احمد یہ لاہور میں انفارمیشن بیورو (شعبہ اطلاعات) قائم کیا نیز ہر طرح سے امداد کی گئی جس کو اخبارات نے بھی بہت سراہا۔سوال ۸۰۸ آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔حضور نے اس ٹریکٹ میں کس طرف توجہ دلائی ؟ جواب مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے اس بنیادی نکات لکھے جو انتہائی دور کرس مفید اور عملی ہیں۔سوال ۸۰۹ مئی ۱۹۲۷ ء میں امرتسر کے ہندور سالہ دور تمان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت دل آزار مضمون شائع کیا۔حضور نے اس کے جواب میں ایک پوسٹرت لے کیا۔اس کا عنوان کیا تھا۔؟ جواب رسول کریم کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے۔اس پوسٹر نے مسلمانوں میں زبر دست پہچان کی صورت پیدا کر دی۔چنانچہ گورنمنٹ کو " در زمان کا گندہ اور ناپاک پرچہ ضبط کرنے اور ایڈیٹر و مضمون نگار پر مقدمہ چلانے کی فوری توجہ پیدا ہوئی۔سوال ۸۱۰ پارج پال کی رسوائے عالم کتاب، رنگیلا رسول“ کے متعلق عدالت پنجاب کے فیصلہ کا کیا رد عمل ہوا ؟ را جپال کو تعزیرات ہند کے تحت سزا دے کہ بری کر دیا گیا۔عدالتی فیصلہ جوانیه پر مسلمانان ہند پریشان ہو گئے اور یہ تجویز پیش کی کہ ملک میں سول نافرمانی شروع کر دی جائے مگر حضرت خلیفہ ثانی نے اس نازک ترین وقت میں مسلمانوں کی راہنمائی فرمائی اور تحفہ تا نویسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پرامن مگر مور عملی تحریک کا آغاز فرمایا