صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 182
جواب آپ اسی مقام پر گئے جہاں ولیم انرا تھا اور دریاء کے نظارے کے مطابق ایک فاتح جرنیل کی طرح چاروں طرف نظر دوڑائی اور لمبی دعا کی۔بیت فضل لندن کا سنگ بنیا د کب اور کہاں رکھا گیا ؟ سوال ۷۷۰ ۱۹ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو ۲۳۱ میلروز روڈ ہیں۔جواب سوال 1 حضرت خلیفہ ثانی لندن سے کب اور کہاں سے ہوتے ہوئے ہندوستان پہنچے ؟ جواب آپ ۲۵ اکتو بر اس درد کو لندن سے روانہ ہوئے ۲۰ نومبر کو اٹلی سے جہاز میں سوار ہو کہ دار نومیر کو بمبئی پہنچے۔وہاں سے ملکانہ کا تبلیغی مرکز دیکھا۔انبالہ بٹالہ سے۔ہوتے ہوئے ۲۴ نومبر ۱۹۲۶ء کو حضور قاریان پہنچے۔سوال ۷۲ اگر جائزہ ہوتا تو میں یہ سارے پھول مزار سیج پر چڑھا دیتا۔حضور نے اس خیال کا اظہار کب فرمایا تھا ؟ جواب قادیان واپس پہنچنے پر استقبال کرنے والوں نے پھولوں سے لاد دیا تھا۔تب حضور نے یہ بات فرمائی کیونکہ یہ فتوحات کے نشان آپ ہی کے طفیل حاصل ہوئے تھے۔سوالت ۳ ۲۸ مئی ۱۹۳۷ کوامریکہ کے مشہور مستشرق پادری زد غیر قادیان گئے۔انہوں نے قادیان کے کتب خانوں پر کیا تاثرات بیان کئے ؟ جواب انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ قادیان میں عیسائیت کے خلاف لٹریچر کا بہت زبر دست اسلحہ خانہ ہے جو ناممکن کو ممکن بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔عیسائی ان کے مقابلے کی تیاری کریں کیونکہ احمدیت الیسا زیر دوست عقید ہے جو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے۔سوال سے ۷۴ ایران میں دارالتبلیغ کے قیام کے لئے کب اور کس کو حضور نے روانہ فرمایا ؟ جواب ۱۲ جولائی ۱۹۲۳ء کو حضرت شہزادہ عبد المجید لدھیانوی صاحب کو ایران میجیے مرکز قائم کرنے کے لئے روانہ فرمایا۔۱۹۲۷ ء میں آپ تہران میں وفات پاگئے اور وہیں