صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 5 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 5

8 7 دُکھ اُٹھانے اور صبر کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔” ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں خود سبقت کر کے ہرگز تلوار نہیں اُٹھائی بلکہ ایک زمانہ دراز تک کفار کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھایا اور اس قد رصبر کیا جو ہر ایک انسان کا کام نہیں اور ایسا ہی آپ کے اصحاب بھی اسی اعلیٰ اصول کے پابند ر ہے اور جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ دُکھ اُٹھاؤ اور صبر کرو، ایسا ہی انہوں نے صدق اور صبر دکھایا۔وہ پیروں کے نیچے کچلے گئے۔انہوں نے دم نہ مارا۔ان کے بچے ان کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے۔وہ آگ اور پانی کے ذریعہ سے عذاب دیے گئے۔مگر وہ شہر کے مقابلہ سے ایسے باز رہے کہ گویا وہ شیر خوار بچے ہیں۔کون ثابت کر سکتا ہے کہ دنیا میں تمام نبیوں کی اُمتوں میں سے کسی ایک نے بھی باوجود قدرت انتقام ہونے کے خدا کا حکم سن کر ایسا اپنے تئیں عاجز اور مقابلہ سے دست کش بنالیا، جیسا کہ انہوں نے بنایا ؟ کس کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں کوئی اور بھی ایسا گروہ ہوا ہے، جو باوجود بہادری اور جماعت اور قوت بازو اور طاقت مقابلہ اور پائے جانے تمام لوازم مردمی اور مردانگی کے پھر خونخوار دشمن کی ایذاء اور زخم رسانی پر تیرہ برس تک برابر صبر کرتا رہا۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ 10) دشمنوں کی اذیتوں اور دکھوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کارد عمل حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:- ایک دفعہ حضرت خباب بن ارت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ ! مسلمانوں کو قریش مکہ کے ہاتھوں اتنی تکالیف پہنچی ہیں۔اتنی تکالیف پہنچ رہی ہیں کہ اب تو حد ہوگئی ہے۔یا رسول اللہ ! آپ ان پر بددعا کیوں نہیں کرتے۔آپ نے جب یہ سنا اس وقت آپ لیٹے ہوئے تھے ، جوش سے اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ غصہ سے تمتما نے لگا۔آپ نے فرمایا: دیکھو! تم سے پہلے وہ لوگ بھی گزرے ہیں جن کا گوشت لوہے کے کانٹوں سے نوچ کر ہڈیوں تک صاف کر دیا گیا اور ایسے بھی تھے جن کے جسم آروں سے چیر دیے گئے لیکن انہوں نے اُف تک نہ کی۔دیکھو! خدا اس کام کو ضرور پورا کرے گا جو کام اس نے میرے سپر د کیا ہے۔یہ تھا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا رد عمل۔یہی تربیت تھی جو آ نے اپنے غلاموں کو دی اور یہی رد عمل تھا جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں سے ظاہر ہوتا رہا۔چنانچہ حضرت خبیب بن عدی کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ جب جان دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور تلوار ان پر گر کر ان کا سرتن سے جدا کرنے کو تھی تو گھبراہٹ نہیں تھی ، کوئی واویلا نہیں تھا۔ہاں دو شعر ان کی زبان پر جاری ہوئے اور ہمیشہ کے لیے ان کی