صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 17 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 17

32 31 دھمکی دی تو انہوں نے کہا: یہ تیرا اختیار ہے تو جو مرضی کر۔چنانچہ بادشاہ کے حکم سے انہیں صلیب پر لٹکا دیا گیا اور اس نے تیراندازوں سے کہا: ان پر اس طرح سے تیر چلا ؤ کہ ان کو نہ لگیں ، ہاتھوں اور پاؤں کے قریب سے گزر جائیں۔اس کے ساتھ ہی بادشاہ کہہ رہا تھا کہ اگر تم عیسائی ہو جاؤ تو بچ جاؤ گے مگر وہ مسلسل انکار کرتے رہے۔آخر بادشاہ نے ایک اور چال چلی۔ان کو صلیب سے اتروا لیا۔ایک دیگ منگوائی اور اس کو لبالب پانی سے بھروایا ، نیچے آگ جلوائی اور خوب جوش دلوایا۔پھر دو مسلمان قیدیوں کو بلوایا۔ان میں سے ایک کو دیگ میں پھینکنے کا حکم دیا اور اسے پھینک دیا گیا۔اس طرح بادشاہ نے اپنے خیال میں حضرت عبداللہ پر اذیت ناک موت کا خوف طاری کر کے انہیں پھر عیسائی ہو جانے کا مشورہ دیا مگر انہوں نے اسے پائے حقارت سے ٹھکرا دیا۔تب بادشاہ نے کہا کہ انہیں بھی اسی دیگ میں ڈال دیا جائے جب ان کو لے جایا جانے لگا تو حضرت عبداللہ رو پڑے۔بادشاہ کو پتہ لگا تو وہ سمجھا کہ موت سے خوفزدہ ہو گئے ہیں۔چنانچہ انہیں قریب بلا کر پھر عیسائیت کا پیغام پیش کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔اس پر بادشاہ نے تعجب سے کہا کہ پھر رونے کی کیا وجہ تھی۔حضرت عبداللہ نے فرمایا:- میں نے سوچا کہ ابھی مجھے دیگ میں ڈال دیا جائے گا اور میری ایک ہی جان ہے جو چلی جائے گی۔میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے بالوں جتنی تعداد میں یعنی ہزاروں لاکھوں جانیں ہوتیں جو سب کی سب راہ خدا میں آگ میں ڈال دی جاتیں۔اس صدمہ سے مجھے رونا آ گیا۔بالآخر بادشاہ نے ان سے کہا کہ اگر تم میرے سر پر بوسہ دو تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔اس پر حضرت عبداللہ نے تمام مسلمان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ لیا اور سوچا کہ اس کے سر کو بوسہ دینے سے میرے تمام ساتھیوں کو بریت نصیب ہوتی ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔چنانچہ تمام قیدی رہا ہو کر حضرت عمر کے پاس پہنچے اور انہیں یہ سارا واقعہ بتایا گیا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ عبداللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دے اور اس کا آغاز میں کروں گا۔(کنزالعمال كتاب الفضائل جلد 7 صفحہ 62 مطبع دائره المعارف النظامیه حیدر آباد1314ھ) معجزانه رزق اسی قید و بند اور اذیت کے عالم میں خدا تعالیٰ نے ایسے معجزانہ طور پر صحابہ کو رزق عطا فر مایا کہ دشمن حیران رہ گئے اور یہ امران کے لیے ہدایت کا موجب بن گیا۔حضرت ابو امامہ باہلی اپنی قوم کو تبلیغ کر رہے تھے مگر قوم مسلسل انکار کر رہی لذیذ پانی تھی۔اس موقع پر انہیں سخت پیاس لگی۔انہوں نے پانی طلب کیا تو ان کی قوم نے کہا: ہم تمہیں ہرگز پانی نہیں دیں گے۔یہاں تک کہ تم پیاس سے مر جاؤ۔حضرت ابوامامہ سر پر کپڑا لپیٹ کر سخت گرمی میں پتھروں پر لیٹ گئے اور بعید نہیں تھا کہ شدت پیاس اور گرمی سے ان کی جان نکل جاتی۔مگر خدا اپنے فدائیوں کے لیے غیر معمولی معجزے بھی دکھاتا ہے۔انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی ان کے لیے ایک قیمتی پیالہ میں ایسا پانی لایا ہے جس سے زیادہ خوبصورت پیالہ اور لذیذ پانی کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔انہوں نے وہ پانی سیر ہو کر پیا۔یہ معجزہ جب انہوں نے ثبوت کے ساتھ پیش کیا تو ساری قوم ایمان لے آئی۔(مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 642 كتاب معرفة الصحابه مكتبه النصر الحديثه۔رياض)