صبرو استقامت کے شہزادے — Page 16
30 29 لکھا ہے کہ قید میں ان کا بدن بھاری ہو گیا۔رنگ و روپ بدل گیا۔اس حال کو دیکھ کر ماں بھی لعنت ملامت کرنے سے باز آ گئی تھی۔اسی دین پر رہوں گا (طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 116 دار بیروت۔بیروت 1957ء) حضرت خالد بن سعید ایک خواب کی بناء پر اسلام لائے۔ان کے والد کو معلوم ہوا تو خالد کو پکڑنے کے لیے کئی آدمی بھیجے۔جب وہ انہیں لے آئے تو والد نے انہیں شدید زدوکوب کیا اور انہیں ایک کوڑے سے مارا یہاں تک کہ ان کے سر پر مارتے مارتے وہ کوڑ اٹوٹ گیا۔ان کے والد نے سمجھا کہ اب شاید ان کے خیالات بدل گئے ہوں گے اور پوچھا: کیا تم اب بھی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اتباع کرو گے؟ خالد نے جواب دیا: خدا کی قسم یہ سچا دین ہے۔میں اسی پر رہوں گا۔اس پر والد نے بہت گالیاں دیں اور انہیں قید کر دیا۔بھوکا پیاسا رکھا یہاں تک کہ تین دن اسی حال میں گذر گئے۔آخر ایک دن موقع پا کر فرار ہو گئے اور حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔(طبقات ابن سعد جلد 4 صفحہ 94-95داربیروت۔بیروت1957ء) اسیران راہ مولی عیاش بن ربیعہ ماں کی طرف سے ابوجہل کے بھائی تھے۔اسلام لائے اور ہجرت کر کے مدینہ کی نواحی بستی قبا پہنچے تو ابو جہل اور حارث بن ہشام وہاں آگئے اور ان کو بہلا پھسلا کر مکہ لے آئے اور قید کر دیا۔حضرت سلمہ بن ہشام بھی قدیمی مسلمانوں میں سے ہیں۔آپ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے۔واپس آئے تو ابو جہل نے انہیں قید کر دیا اور بھوکا اور پیاسا رکھا۔فرار ہوکر حضرت ولیڈ خالد بن ولید کے بھائی تھے۔وہ اسلام لائے تو انہیں حضرت سلمہ اور عیاش بن ابی ربیعہ کے ساتھ قید کر دیا گیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان تینوں کی رہائی کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ولید کسی طرح قید سے چھوٹ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دوساتھیوں کا حال پوچھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ سخت اذیت اور مصیبت میں ہیں۔ایک کا پاؤں دوسرے کے پاؤں کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر حضرت ولیڈ مکہ گئے اور ایک خفیہ طریق سے ان دونوں کو لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔خالد بن ولید نے پیچھا کیا مگر یہ بیچ کر مدینہ پہنچ گئے۔(طبقات ابن سعد جلد 4 صفحہ 129 تا 133 دار بیروت۔بیروت 1957ء) قریش کے ایک لیڈرسہیل بن عمرو کے بیٹے ابو جندل مسلمان ہوئے تو ان پابجولاں کے والد نے بیڑیاں پہنا ئیں اور کئی برس تک قید رکھا۔اس دوران انہیں سخت عذابوں میں سے گزارا گیا۔حدیبیہ کا معاہدہ طے ہو رہا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح پابجولاں وہاں آ پہنچے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایفائے عہد کا بلند نمونہ پیش کرتے ہوئے انہیں واپس کر دیا۔وہ تعمیل حکم کرتے ہوئے پھر انہی مصائب میں گرفتار ہو گئے مگر پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔(صحیح بخارى كتاب الشروط باب الشروط في الجهاد) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبداللہ بن ہر خوف سے آزاد حذافہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں رومیوں کے ساتھ ایک جنگ میں گرفتار ہو گئے۔ان کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اصحاب محمد میں سے ہیں۔بادشاہ نے اولاً تو انہیں لالچ دیا اور کہا: اگر تم عیسائی ہو جاؤ تو میں تمہیں اپنی حکومت اور سلطنت میں شریک کرلوں گا۔حضرت عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر تم اپنی ساری سلطنت اور دولت بھی مجھے اس شرط پر دے دو کہ میں دین محمد سے پھر جاؤں تب بھی میں یہ بات ایک لمحہ کے لیے بھی قبول نہیں کروں گا۔تب بادشاہ نے انہیں موت کی