سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 50

50 سبیل الرشاد جلد چہارم معیار قائم کرتے دیکھا ہوتا ہے، دو عملی کرتے ہوئے دیکھا ہوتا ہے۔جب ان کے بچوں کے ذہن میں شیطان یہ بات ڈال دے کہ اگر خدا ہوتا تو تمہارا باپ جو یہ دو عملیاں کر رہا ہے اس کو پکڑ نہ لیتا۔تو دیکھیں اس کے بڑے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں اگر انسان سوچے تو خوفزدہ ہو جاتا ہے۔اسلئے ہر احمدی کو اور خاص طور پر انصار اللہ کو جو عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں اب صحت مزید کمزور ہونی ہے، قومی جو ہیں مزید کمزور ہونے ہیں اور کچھ ایسی عمر کے بھی ہیں، پتہ تو نہ جو ان کا ہے نہ بچے کا لیکن کسی وقت بھی خدا کی طرف سے بلاوا آ سکتا ہے۔تو اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں کو بدلنے کی کوشش نہ کی ، اگر اب بھی ہم نے اپنے گھر کے رَاعِني بننے کا حق ادا نہ کیا ، اگر اب بھی ہم نے ان کی نگرانی اور حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے۔اللہ تعالیٰ کے حضور جب حاضر ہوں گے تو خدا تعالیٰ پوچھے گا نہیں کہ تم نے دعوی تو یہ کیا تھا کہ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ ، ہم اللہ کے انصار ہیں۔کیا اللہ کے انصار ایسے ہوتے ہیں۔تم اللہ تعالیٰ کے کاموں میں مددگار بننے کی بجائے اپنی اولادوں کو بھی اللہ تعالیٰ سے دور ہٹانے والے بن رہے ہو۔جب تمہارے اپنے گھروں میں تربیت کی طرف پوری توجہ نہیں بلکہ تمہارے نمونہ کی وجہ سے تمہاری اولادوں میں نمازوں کی عادت نہیں پڑی تمہاری اولادوں میں قرآن کریم پڑھنے کی عادت نہیں پڑی، تمہاری اولادوں میں دین کی غیرت نہیں ابھری، ایسی غیرت کہ وہ نو جوانی میں بھی اپنی ذاتی اناؤں اور ذاتی خواہشات کو قربان کرنے والے ہوں۔اگر تمہاری بیوی تمہاری بہو، تمہارے حسن سلوک اور عبادت گزاری کی گواہی نہیں دیتیں تو صرف مختلف مواقع پر یہ اعلان کر دینا کہ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ۔اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔اللہ کی مدد کیا ہے۔آجکل یہ کیا طریقہ ہے جس سے ہم اللہ کی مدد کر سکتے ہیں۔کیا اللہ تعالیٰ کی مدد گولے چلانا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ کی مدد کیلئے تو پوں اور بندوقوں سے جنگ کرنا ہے؟ نہیں، بلکہ آج انصار اللہ، اللہ کے مددگاروں کا یہ کام ہے کہ وہ اپنی عبادتوں کے بھی اعلیٰ معیار قائم کریں اور حسن سلوک کے بھی اعلیٰ معیار قائم کریں۔ان کے گھروں سے ان کے ان اعلیٰ معیاروں کی خوشبو میں اٹھتی ہوں، ان کے ماحول سے ان کے ان اعلیٰ معیاروں کی خوشبو میں اٹھتی ہوں تبھی وہ پورے معاشرے میں اللہ کی مدد سے ان اعلیٰ معیاروں کی خوشبوئیں پھیلا سکتے ہیں۔اللہ کو تو کسی بندے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ تو ایک اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے " سے بندوں کو دے رہا ہے کہ تم میری تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اگر اس دنیا میں زندگی گزارو گے اور تم میری تعلیم کو دنیا میں پھیلاؤ گے تو اس طرح تم میرے دین کی مدد کر رہے ہو گے۔فضل اگر خاموشی سے بھی ، زبان سے کچھ کہے بغیر بھی تمہارے عملی نمونہ سے کسی کی اصلاح ہوتی ہے اور اس وجہ سے دوسرے کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ کے دین کی عظمت بڑھ رہی ہے تو یہ ایسے لوگ ہیں جو خاموشی سے بھی ، کچھ کہے بغیر بھی انصار اللہ ہونے کا حق ادا کر رہے ہونگے۔اللہ تو تمہیں محض اور محض اپنے فضل سے