سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 49
سبیل الرشاد جلد چہارم 49 ہوئیں۔بہر حال وہ آپ لوگوں کے علم میں اضافے اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنی ہونگی۔اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہر کوئی ان باتوں کو جو سنی گئی ہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کرے۔انصار کا اپنے گھر میں سلوک مثالی ہو اس مغربی معاشرے میں رہتے ہوئے ، جہاں ہر قسم کی آزادی ہے، انصار اللہ کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔جہاں آپکو اپنے بچوں کی طرف اپنے گھروں کی طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے، بیوی کی طرف بھی توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔بیوی سے اگر حسنِ سلوک ہوگا تو وہ یکسوئی سے آپکے بچوں کی صحیح تربیت کی طرف توجہ کرے گی۔ورنہ تو وہ بچوں کی تربیت کی بجائے گھر میں ہر وقت ان بچوں کے سامنے ایسے خاوند ، ایسے باپ جو صحیح طرح اپنے بیوی بچوں کی طرف توجہ نہیں دیتے ، ان کے رویوں کا ذکر ہی ہوتار ہے گا، ان کی شکایتیں ہی ہوتی رہیں گی۔بچے اور ماں ایک دوسرے سے اپنے باپوں کے بارے میں رونے ہی روتے رہیں گے۔اور پھر ایسی صورت کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کے بچے آپ سے پیچھے ہٹتے چلے جائیں گے۔چالیس سال کی عمر کے انصار جو ہیں ان کے بچے ابھی چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں، اس سے بڑی عمر کے انصار میں ان کے بچوں کی نو جوانی میں شادیاں ہو گئیں، ان کے آگے بچے ہیں، تو ہر عمر کے انصار کے گھر کا جو ماحول ہے، اس میں اگر اس کا رویہ اپنے گھر والوں سے ٹھیک نہیں تو وہ بعض دفعہ ٹھوکر کا باعث بن سکتا ہے۔اور پھر آپ سے جب پرے ہٹیں گے تو پھر دین سے بھی پرے ہٹتے چلے جائیں گے۔نحن انصار اللہ کے حوالہ سے انصار اللہ کی ذمہ داریاں اگر بچوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ ہمارا باپ یا ہمارا دا دایا ہما را نا نا دین کے بڑے خدمت گاروں میں شمار ہوتا ہے لیکن گھر کے اندر وہ اعلیٰ اخلاق جو ایک دیندار کے اندر ہونے چاہیں ان کا اظہار نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی عبادت کے جو نظارے ان بزرگوں میں نظر آنے چاہئیں وہ نظر نہیں آتے ، تلاوت قرآن کریم کی طرف توجہ جس طرح ہونی چاہئے وہ توجہ نہیں ہوتی۔پھر بچے یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہماری ماں کے ساتھ جو حسنِ سلوک اس گھر میں ہونا چاہئے وہ نہیں ہوتا تو باہر جا کر جس دین کی خدمت کا ایسا شخص نعرہ لگاتا ہے بچے کے ذہن میں یہی رہے گا کہ وہ سب ڈھکوسلا ہے۔تو پھر جیسا کہ میں نے کہا ایسے بچے دین سے بھی دُور ہو جاتے ہیں۔اور معاشرے میں اس ماحول میں شیطان تو پہلے ہی اس تاک میں بیٹھا ہوا ہے کہ کب کوئی ایسی ذہنی کیفیت والانظر آئے اور کب میں اس کو اپنے جال میں پھنساؤں۔پھر ایسے بگڑتے ہوئے بچے جب شیطان اپنے جالوں میں ان کو پھنسا لیتا ہے تو بعض اوقات خدا کی ذات کے بھی انکاری ہو جاتے ہیں، ان کو اللہ تعالے کی ذات پر بھی یقین نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے خدا کے نام پر اپنے باپوں کو اپنے بزرگوں کو دوہرے