سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 35

سبیل الرشاد جلد چہارم 35 شادی بیاہ پر انصار کو مردوں کی طرف Serve کرنے کی ہدایت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 30 جنوری 2004ء کو خطبہ جمعہ میں پردے کی اہمیت ،اس کی برکات وفوائد بیان فرمائے۔جس میں حضور نے شادی بیاہ کے فنکشنز پر کھانا تقسیم کرتے وقت انصار کو مردوں کی طرف کھانا Serve کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا۔" بعض جگہوں پر ہمارے ہاں شادیوں وغیرہ پر لڑکوں کو کھانا Serve کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے۔دیکھیں کہ تختی کسی حد تک ہے اور کجا یہ ہے کہ لڑکے بلا لئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ چھوٹی عمر والے ہیں حالانکہ چھوٹی عمر والے بھی جن کو کہا جاتا ہے وہ بھی کم از کم 17-18 سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔بہر حال بلوغت کی عمر کو ضرور پہنچ گئے ہوتے ہیں۔وہاں شادیوں پر جوان بچیاں بھی پھر رہی ہوتی ہیں اور پھر پتہ نہیں جو بیرے بلائے جاتے ہیں کس قماش کے ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا ہے بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں اور ان سے پردے کا حکم ہے۔اگر چھوٹی عمر کے بھی ہیں تو جس ماحول میں وہ بیٹھتے ہیں ، کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے ماحول میں بیٹھ کر ان کے ذہن بہر حال گندے ہو چکے ہوتے ہیں۔اور سوائے کسی استثناء کے الا ماشاء اللہ ، اچھی زبان ان کی نہیں ہوتی اور نہ خیالات اچھے ہوتے ہیں۔پاکستان میں تو میں نے دیکھا ہے کہ عموما یٹر کے تسلی بخش نہیں ہوتے۔تو ماؤں کو بھی کچھ ہوش کرنی چاہئے کہ اگر ان کی عمر پردے کی عمر سے گزر چکی ہے تو کم از کم اپنی بچیوں کا تو خیال رکھیں۔کیونکہ ان کام کرنے والے لڑکوں کی نظریں تو آپ نیچی نہیں کر سکتے۔یہ لوگ باہر جا کر تبصرے بھی کرسکتے ہیں اور پھر بچوں کی خاندان کی بدنامی کا باعث بھی ہو سکتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ احمدی لڑکے ، خدام ، اطفال کی ٹیم بنائی جائے جو اس طرح شادیوں وغیرہ پر کام کریں۔خدمت خلق کا کام بھی ہو جائے گا اور اخراجات میں بھی کمی ہو جائے گی۔بہت سے گھر ہیں جو ایسے بیروں وغیرہ کو رکھنا Afford ہی نہیں کر سکتے لیکن دکھاوے کے طور پر بعض لوگ بلا بھی لیتے ہیں تو اس طرح احمدی معاشرے میں باہر سے لڑکے بلانے کا رواج بھی ختم ہو جائے گا۔خدام الاحمدیہ، انصار اللہ یا اگرلڑکیوں کے فنکشن ہیں تو لجنہ اماءاللہ کی لڑکیاں کام کریں۔اور اگر زیادہ ہی شوق ہے کہ ضرور ہی خرچ کرنا ہے ، Serve کرنے والے لڑکے بلانے ہیں یا لوگ بلانے ہیں تو پھر مردوں کے حصے میں مرد آئیں۔یہاں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں بھی Serve کرتی ہیں عورتوں کے حصے میں تو وہاں پھر عورتوں کا انتظام ہونا چاہئے اور اس بارہ میں کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بعض لوگ دیکھا دیکھی خرچ کر رہے ہوتے ہیں تو یہ ایک طرح کا احساس کمتری ہے۔کسی قسم کا احساس کمتری نہیں ہونا چاہئے۔اگر یہ ارادہ کر لیں کہ ہم نے قرآن کے حکم کی تعمیل کرنی ہے اور پاکیزگی کو بھی قائم رکھنا ہے تو کام تو ہو ہی جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو ثواب بھی مل رہا ہوگا" خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 87-88)