سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 416

سبیل الرشاد جلد چهارم 416 ہم اپنے اعمال اور عبادتوں کو وہ رنگ دیں جو ہمارے لئے زادراہ ثابت ہو اعمال کو اور اپنی عبادتوں کو وہ رنگ ہمیں دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے بہترین زادِ راہ ثابت ہوں۔اس زمانے کے امام کو مان کر روحانی پانی ہمیں میسر آ گیا۔اس کو سنبھالنا اور اس سے فائدہ اٹھانا اب ہمارا کام ہے۔پس اس حقیقت کو بھی ہر احمدی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ جو کامل اطاعت کے ساتھ امام وقت کی باتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں اور یہی باتیں ہیں جو پھر خلافت کے انعام سے بھی فیض پانے والا بناتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خلافت کے فیض سے فیض پانے والے وہی بتائے ہیں جو عمل صالح کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں، تو حید کو قائم رکھنے والے ہیں۔اور یہی وہ لوگ ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے کہلاتے ہیں۔پس ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ خلافت میں کبھی دنیاوی مقاصد ہو سکتے ہیں یا خلافت کا مقصد بھی دنیاوی مقاصد کی طرح ہے یا دنیا داروں کی طرح ہے۔دنیاوی مقاصد حاصل کرنے والوں کا روحانیت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔وہ تو تمام دنیاوی ساز وسامان کے ساتھ بھی بسا اوقات کامیاب نہیں ہوتے۔ان کے دنیاوی مقاصد پورے نہیں ہوتے۔کامیابی تو وہی ہے ناں جو آخری فتح مل جائے۔وہ ان کو حاصل نہیں ہوتی۔لیکن خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں اور تقویٰ پر چلنے والوں کا مقصد دنیاوی ہار جیت نہیں ہے بلکہ کامل اطاعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا اور تقویٰ میں بڑھنا ہوتا ہے۔ہمارا مقصد خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنا ہے۔کوئی ذاتی نفع رسانی نہیں ہے۔تو حید کا جھنڈا لہرانا ہے۔ہم نے دنیا کے دل جیت کر دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے۔اسی مقصد کے لئے ہمارے تبلیغی پروگرام ہیں اور دوسرے پروگرام ہیں۔اس کے حصول کے لئے ہماری دعاؤں کی طرف توجہ ہے اور ہونی چاہئے۔پس خلافت تو ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس کے لئے اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خلافت ہے کیا؟ اور یہ بات اسی وقت سمجھ آئے گی جب کامل اطاعت پر یقین پیدا ہو گا۔کوئی جتنا جتنا بھی اپنے آپ کو عالم مدبر یا مقر رسمجھتا ہے، اگر اطاعت نہیں ہے تو نہ ہی جماعت احمدیہ میں اس کی کوئی جگہ ہے، نہ ہی اس کا یہ علم اور عقل دنیا کو کوئی روحانی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتباع امام کو اپنا شعار بناوے۔پس جب مکمل طور پر خلیفہ وقت کی پیروی اور اطاعت اختیار کر لیں گے۔خلیفہ وقت کی طرف سے ملنے والی ہدایات اور حکموں پر عمل کریں گے اور ان کی تو جیہیں اور تاویلات نکالنی بند کر