سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 388
سبیل الرشاد جلد چهارم 388 پیدا ہو جا ئیں تو تبھی کامیابی مل سکتی ہے اور یہ تین چیزیں ہیں۔نمبر ایک قوت ارادی۔نمبر دو صحیح اور پور اعلم۔اور نمبر تین قوت عملی۔لیکن اصل بنیادی قو تیں دو ہیں۔قوت ارادی اور قوت عملی۔جو چیز ان دونوں کے درمیان میں رکھی گئی ہے یعنی صحیح اور پور اعلم ہونا، یہ دونوں بنیادی قوتوں پر اثر ڈالتی ہے۔علم کا صحیح ہونا قوت عملی پر بھی اثر ڈالتا ہے اور قوت ارادی پر بھی اثر ڈالتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 440 خطبه فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ ) بہر حال پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ قوت ارادی اور قوت عملی ہی دو بنیادی چیزیں ہیں جو عملی اصلاح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس کے لئے ہمیں قوت ارادی کو زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اور قوتِ عملی کے نقص کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارا ارادہ اگر کسی برائی کو روکنے کا مضبوط ہوتو تبھی وہ برائیاں رک سکتی ہیں اور ارادے کی مضبوطی اُس وقت کام آئے گی جب عمل کرنے کی جو قوت ہے، ہمارے اندر جو طاقت ہے، اُس کی جو کمزوری ہے اُس کو دُور کریں ، اُس کے نقص کو دور کریں۔اس کے بغیر اصلاح نہیں ہوسکتی۔اس پہلو سے جب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ہماری قوت ارادی کیسی ہے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ جہاں تک ارادے کا تعلق ہے اس میں بہت کم نقص ہے کیونکہ ارادے کے طور پر جماعت کے تمام یا اکثر افراد ہی تقریباً یہ چاہتے ہیں کہ ان میں تقویٰ اور طہارت پیدا ہو۔وہ اسلامی احکام کی اشاعت کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کا قرب حاصل کر سکیں۔حضرت مصلح موعود نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ہماری قوت ارادی تو مضبوط ہے اور طاقتور ہے پھر بھی نتائج سی نہیں نکلتے تو پھر یقینا دو باتوں میں سے ایک بات ہے۔یا تو یہ کہ عمل کے لئے حقیقی قوت ارادی جو چاہئے ، اتنی ہمارے اندر نہیں ہے لیکن عقیدے کی اصلاح کے لئے جتنی قوت ارادی کی ضرورت تھی وہ ہم میں موجود تھی۔اس لئے عقیدے کی تو اصلاح ہوگئی لیکن عملی اصلاح کے لئے چونکہ قوت ارادی کی ضرورت تھی، وہ ہم میں موجود نہیں تھی ، اس لئے ہم اعمال کی اصلاح میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اور پھر یہ بھی مانا پڑے گا کہ ہماری عبودیت میں بھی کچھ نقص ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ بندگی جس کا ہم دعوی کرتے ہیں اُس میں بھی کچھ نقص ہے اور اس وجہ سے قوت عملی مفلوج ہو گئی ہے اور قوت ارادی کے اثر کو قبول نہیں کر رہی۔یعنی ہماری عمل کی قوت مفلوج ہوگئی ہے اور قوت ارادی کا اثر قبول نہیں کر رہی۔یا ان باتوں کو قبول کرنے کے لئے جن معاونوں کی یا جن مددگاروں کی ضرورت ہے اُن میں کمزوری ہے۔اس صورت میں ہم جب تک قوت متاثرہ یا عملی قوت کا یا اثر لے کر کسی کام کو کرنے والی قوت کا علاج نہ کر لیں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔مثلاً ایک طالبعلم ہے، وہ اپنا سبق یاد کرتا ہے مگر یاد نہیں رکھ سکتا۔اُس کا جب تک ذہن درست نہیں کر لیا جاتا اُس وقت تک اُسے خواہ کتنا سبق دیا جائے ، کتنی ہی بارا سے یاد کروایا جائے یا بیاد کرانے کی کوشش کی جائے ، وہ اُسے یاد نہیں رکھ سکے گا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 436, 435 خطبه فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ )