سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 387

387 سبیل الرشاد جلد چهارم گئی ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے ایک محلہ بن گئی ہے۔ہزاروں میل دور کی برائی بھی ہر گھر میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ پہنچ گئی ہے اور ہر ملک کی جو خواہ ہزاروں میل دور ہے، اچھائی بھی ہر گھر تک پہنچ گئی ہے۔مجموعی لحاظ سے ہم دیکھیں تو برائی کے پھیلنے کی شرح اچھائی کے پھیلنے کی نسبت بہت زیادہ تیز ہے۔پھر جیسا کہ میں پہلے بھی کئی موقعوں پر ذکر کر چکا ہوں اچھائی اور برائی کا معیار بدل گیا ہے۔ایک چیز جو اسلامی معاشرے میں برائی ہے، دنیا دار معاشرے میں جواب تقریباً لا مذہب معاشرہ ہے، اس میں وہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو ہم بُرائی سمجھتے ہیں۔یہ ان کے نزدیک بہت معمولی سی چیز ہے بلکہ اچھائی سمجھی جانے لگی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مثال دی ہے کہ مغربی معاشرے میں ناچ کا رواج ہے۔یہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تو اتنا عام نہیں تھا یا کم از کم اس کے لئے خاص جگہوں پر جانا پڑتا تھا۔آجکل تو ٹی وی اور انٹرنیٹ نے ہر جگہ یہ پہنچا دیا ہے اور بعض گھروں میں ہی تفریح کے نام پر ناچ کے اڈے بن گئے ہیں۔اور بعض گھریلو فنکشنز پر بھی یہ ناچ وغیرہ ہوتے ہیں۔خاص طور پر شادیوں کے موقع پر تفریح اور خوشی کے نام پر بیہودہ ناچ کئے جاتے ہیں۔ایک احمدی گھر کو اس سے بالکل پاک ہونا چاہئے۔اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بہر حال میں حضرت مصلح موعود کے حوالے سے بات کر رہا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ اب مغربی ملکوں میں ناچ کا رواج ہے مگر پہلے اسے لوگ برا سمجھتے تھے۔اب آہستہ آہستہ اسے لوگوں نے اختیار کرنا شروع کر دیا۔پہلے عورت مرد ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نا چھتے تھے۔پھر ایک دوسرے کے قریب منہ کر کے ناچنے لگے اور پھر یہ فاصلے کم ہونے لگے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 432 خطبه فرمودہ 3 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ ) جیسا کہ میں نے کہا کہ اب تو ناچ کے نام پر بیہودگی کی کوئی حد نہیں رہی۔ننگے لباسوں میں ٹی وی پر ناچ کئے جاتے ہیں۔یہ کیوں پھیلا ؟ صرف اس لئے کہ برائی پھیلانے والے باوجود دنیا کے شور مچانے کے کہ یہ برائی ہے، برائی پھیلانے پر استقلال سے قائم رہے اور دنیا کی باتوں کی کوئی پروا نہیں کی۔آخر ایک وقت میں یہ کامیاب ہو گئے۔اب تو پاکستان جو مسلمان ملک ہے اُس کے ٹی وی پر بھی تفریح کے نام پر ، آزادی کے نام پر بیہودگیاں نظر آتی ہیں، نگ نظر آتا ہے۔گویا برائی اپنے استقلال کی وجہ سے دنیا کے ذہنوں پر حاوی ہو گئی ہے۔پس اس کے مقابلے پر آنے کے لئے بہت بڑی منصوبہ بندی اور قربانی کی ضرورت ہے۔اگر یہ نہ ہوئی تو پھر ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس بہت سوچنے اور غور کرنے اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔اُن چیزوں کو اپنانے کی ضرورت ہے جن کو اپنا کر ہم یہ روکیں دُور کر سکتے ہیں۔جن کو استعمال میں لا کر ہمارے اندر یہ روکیں دور کرنے کی طاقت پیدا ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے ہم برائیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔اس کے حصول کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے عمدہ رنگ میں وضاحت فرمائی ہے کہ اگر عملی اصلاح کے لئے یہ باتیں انسان میں