سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 281

281 سبیل الرشاد جلد چہارم ہے۔اس کے لئے ایک ہی راہ ہے اور وہ دُعا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے۔اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑ نا چھوٹی سی بات نہیں ہے۔یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ دُعاؤں سے ہوگا۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں۔اس کا وعدہ ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن : 61 )۔عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دُعا ہے۔وہ دنیا کے کیڑے ہیں۔اس لئے اس سے پرے نہیں جا سکتے۔اصل دُعا دین ہی کی دُعا ہے "۔اور ایک دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ اور اصل دین دُعا میں ہے۔فرمایا لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گناہگار ہیں یہ دُعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی۔یہ غلطی ہے"۔اس بارے میں ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ گناہ اس میل کی طرح ہے جو کپڑوں پر ہوتی ہے اور دھونے سے دور کی جاتی ہے۔پس گناہ کوئی مستقل چیز نہیں ہے۔گناہ کو دھویا جاسکتا ہے۔اگر ارادہ ہو اور دعاؤں کی طرف توجہ ہو تو صاف کیا جا سکتا ہے۔فرمایا " بعض وقت انسان خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آسکتا ہے "۔گناہوں پر انسان غالب آجاتا ہے اس لئے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے۔"دیکھو پانی خواہ کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہر حال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لئے کہ فطرتا برودت اس میں ہے"۔ٹھنڈے کرنے کی جو اس کی خصوصیت ہے وہ اس پانی کی ہے۔"ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔وہ پاکیز گی کہیں نہیں گئی۔اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دور کر دے گا" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 133-132 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سربلندی کے لئے دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیتے ہوئے اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلام کے پیغام کو ہم جرات کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتائج بھی پیدا فرمائے۔“ خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 505-515) مجلس انصاراللہ بر طانیہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر صحابہ کا دلچسپ اور دلنشین انداز میں تذکرہ اختتامی خطاب مورخہ 3اکتوبر 2010ء بمقام اسلام آبادٹلفورڈ تشہد ، تعود اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: اس وقت میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کچھ روایات پیش کروں گا جو رجسٹر