سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 276

276 سبیل الرشاد جلد چہارم اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والے گروہ میں شامل فرمایا ہے۔تو پھر اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کی مکمل پیروی کریں تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کالا یا ہوا دین دنیا میں پھیلا سکیں۔اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں اور اپنی نسلوں میں وہ ایمان پیدا کریں اور کرنے کی کوشش کریں جن سے آگے پھر انصار اللہ کی جاگ لگتی چلی جائے۔ایک کے بعد دوسرا مددگار پیدا ہوتا چلا جائے۔اور اس کی جاگ تبھی لگ سکتی ہے جب ہم اپنے عہد بیعت کو سامنے رکھیں اور اس کی ہر شیق کے نمونے اپنی اولادوں کے سامنے پیش کرنے والے بن جائیں تبھی یہ نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا نعرہ جاری رہے گا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے کچھ عرصہ یا نسلوں بعد تو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور تعلیم کی پیروی ختم ہوگئی تھی ، جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا۔اس کا ذکر ہو چکا ہے کہ بادشاہوں کے عیسائی ہونے کے ساتھ ہی وہ آزادی تو مل گئی لیکن کچھ عرصے بعد موحدین کی جو تعداد تھی وہ کم ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہو گئی۔اللہ تعالیٰ جو واحد و یگانہ ہے اس کی ذات تو پیچھے چلی گئی اور اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ اور اللہ تعالیٰ کا رسول ظالمانہ طور پر خدا تعالیٰ کے مقابلے پر لا کر کھڑا کر دیا گیا۔لیکن مسیح محمدی کے ماننے والوں نے تو حید کے قیام اور اس کو اپنی نسلوں میں جاری رکھنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے اور وہ روحانی غلبہ حاصل کرنا ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔یعنی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بنانا ہے۔خدا تعالیٰ کے پیغام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے دنیا میں پھیلانے کا اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اہتمام فرمایا ہے، اس پیغام کو مسیح اور مہدی کے انصار بن کر دنیا میں پھیلانا ہے۔اور پھر اپنے تک ہی محدود نہیں رکھنا بلکہ اپنی اولاد کے دل میں بھی اس دین کی عظمت کو اس طرح قائم کرنا ہے کہ ان میں سے نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے والے پیدا ہوتے چلے جائیں اور یہ تعداد پھر بڑھتی چلی جائے یہاں تک کہ دنیا پر اسلام کا ایک نئی شان کے ساتھ غلبہ ہم دیکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو پہلی چیز اپنی شرائط بیعت میں ہمارے سامنے رکھی ہے وہ شرک سے اجتناب ہے۔(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159۔اشتہار تکمیل تبلیغ 12 جنوری 1889ء۔ضیاء الاسلام پر لیس ربوہ) مسیح موسوی کے حواریوں کا جو اثر تھا اس معیار تک قائم نہیں رہا جہاں نسلاً بعد نسل وہ موحدین پیدا کرتے چلے جاتے ، اس لئے کچھ عرصے کے بعد ان کی نسلیں شرک کے پھیلانے کا باعث بن گئیں۔اس لئے کہ انہوں نے تعلیم پر عمل نہیں کیا اور ان کے ایمانوں میں کمزوری پیدا ہوتی چلی گئی۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق آہستہ آہستہ کم ہو گیا اور دنیا داری ان کا مقصود اور مطلوب ہوگئی۔پس مسیح محمدی کے غلاموں نے خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق کو نہ اپنی ذات میں کم ہونے دینا ہے نہ اپنی نسلوں میں کم ہونے دینا ہے، ورنہ پہلے حواریوں کی طرح یا ان کی نسلوں کی طرح ایمانی کمزوری پیدا ہوتے ہوتے شرک کی حالت پیدا ہو جائے گی۔اور اب دیکھ