سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 174
174 سبیل الرشاد جلد چہارم پرسوں جمعہ کو جو میں نے یو کے کی بعض جماعتوں کا جائزہ پیش کیا تھا، اس جائزہ کو آپ لوگوں کو جھنجھوڑ دینا چاہئے۔عموماً اچھی کمائی کا وقت اور بہتر آمد کا وقت 40 سال سے 60 سال تک کی عمر کا ہوتا ہے۔اپنے وعدوں کو دیکھیں، اپنے عہدوں کو دیکھیں ، اپنے اس عہد کو دیکھیں اور پھر اپنی قربانی کے معیاروں کو دیکھیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو تم اپنے پر خرچ کر لیتے ہو یا اللہ کی راہ میں جو تم نے خرچ کر دیا وہی بچا ہے، جو تم بچا کر چلے گئے ہو وہ تمہارے کسی کام کا نہیں ، وہ تمہارا نہیں۔لیکن اپنے پر خرچ کرنے کی بھی حدیں مقرر ہیں کہ اعتدال سے خرچ کرو، جائز خرچ کرو۔جمعہ پر جو میں نے مالی جائزہ پیش کیا تھا اس میں پاکستانی احمدیوں کی قربانی سب سے زیادہ تھی۔گزشتہ سال سے گل قربانی میں اضافہ بھی ان کا سب سے زیادہ تھا اور ان کے گزشتہ سال کی نسبت اضافہ بھی بہت زیادہ تھا۔آپ لوگوں کی اکثریت جو اس وقت میرے سامنے بیٹھی ہے وہیں سے آئی ہوئی ہے۔کیا وجہ ہے کہ جب آپ وہاں ہوتے ہیں تو باوجو د خراب حالات ہونے کے قربانیاں کرتے ہیں، یہاں آتے ہیں تو دوسری ضروریات کا خیال آ جاتا ہے؟ پس اس طرف توجہ دیں۔آج اس وقت اس دور میں آپ یہاں جو معیار قائم کریں گے وہی اس جماعت کی مثال بن جائے گی۔جتنے بلند معیاروں تک آپ آئندہ نسلوں کو لے جانا چاہتے ہیں انہیں بلند میعاروں کو آپ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ٹارگٹ مقرر کرنے ہوں گے۔پس آئندہ نسلوں کو ان قربانیوں کی طرف توجہ دلانے کیلئے بھی آپ کو اپنی قربانیوں کے معیار بڑھانے ہونگے۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تحریک جدید میں شمولیت میں بھی بہت گنجائش ہے اس طرف بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔بعض جماعتوں میں نصف سے بھی زائد ایسے لوگ ہیں جو تحریک جدید میں شامل نہیں ہوئے۔شاید اسی طرح وقف جدید میں بھی ہو تو انصار یہ ذمہ داری اب لیں کہ تعداد کو بڑھانے میں آپ نے اپنا ایک کردار ادا کرنا ہے۔پہلے انصار اللہ اپنا جائزہ لیں کہ وہ سو فیصدی تحریکات میں شامل ہیں۔پھر اپنے بیوی بچوں کو شامل کرنے کی کوشش کریں۔خلافت کی حفاظت انصار اللہ کی اہم ذمہ داری ہے جب ان قربانیوں کی طرف توجہ ہوگی تو پھر نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے کے بعد آپ کا ایک بہت بڑا کام جیسا کہ آپ کے عہد میں بھی ہے، خلافت کی حفاظت کرنا ہے۔دعائیں کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کے فرائض کی مکمل ادائیگی کرتے ہوئے اپنے اور اپنے بیوی بچوں میں خلافت کی مکمل اطاعت کی روح پیدا کریں۔اس جذبے کو بڑھا ئیں سطحی نظر سے نہ دیکھیں کہ مومنین کی جماعت سے انعام کا وعدہ ہے۔ان الفاظ پر غور کریں کہ کن سے خلافت کا وعدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اس انعام کے جاری