سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 124
124 سبیل الرشاد جلد چہارم لائے ہو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔اور اگر تم کسی معاملہ میں اولوالامر سے اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو۔اگر فی الحقیقت تم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہتر طریق ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔یعنی تمہارا کام اطاعت کرنا ہے اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پوری پیروی کرو۔پہلے اپنے آپ کو دیکھو کہ تم اللہ کے حکموں کی پیروی کر رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے جو احکامات اتارے ہیں، پہلے تو ان کا فہم و ادراک حاصل کرو، کیا وہ تمہیں حاصل ہو گیا ہے۔اور جب مکمل طور پر حاصل ہو گیا ہے تو پھر اُن احکامات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناؤ اور جب ایک شخص خود اس پر عمل کرنے لگ جائے گا اور اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر بھی عمل کر رہا ہوگا تو پھر وہ شاید اپنے خیال میں یہ کہنے کے قابل ہو سکتا ہے کہ ہاں اب میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی، یہ آیت ہمیں کچھ اور بھی کہتی ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم علمی اور عملی لحاظ سے احکام شریعت کے بہت پابند ہیں اور علم رکھنے والے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جو غیب کا علم بھی رکھتا ہے اور حاضر کا علم بھی رکھتا ہے اور جو آئندہ ہونے والا ہے اس کا علم بھی رکھتا ہے اس کو پتہ تھا کہ اگر صرف اللہ اور رسول صلی اللہ کی اطاعت کا کہہ دیا تو کئی نام نہاد علماء اور بزعم خویش سنت رسول پر چلنے والے پیدا ہوں گے اور جو جماعت کی برکت ہے وہ نہیں رہے گی اور ہر ایک نے اپنی ایک ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوگی اور اپنے محدود علم کو ہی انتہا سمجھیں گے اور آج ہم مسلمانوں میں دیکھتے ہیں تو یہی کچھ نظر آتا ہے۔لیکن یہ جو زعم ہے کہ ہم اللہ اور رسول کے حکم پر عمل کر رہے ہیں، اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہلوا کر ختم کر دیا کہ مسیح موعود کے آنے کے بعد اس کو ماننا ضروری ہے اور پھر اس کے بعد جو خلافت علی منہاج النبوة قائم ہوتی ہے اس کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ورنہ یہ دعوی ہے کہ ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کر لی۔اور پھر اس سے آگے اللہ تعالیٰ نے نظام جماعت میں یکرنگی پیدا کرنے کے لئے اور اس نظام کی حفاظت کے لئے یہ بھی فرما دیا کہ اولوالامر کی بھی اطاعت کرو۔صرف مسیح موعود کو جو مان لیا اس کے بعد جو نظام مسیح موعود کی جماعت میں، نظام خلافت کے قائم ہونے سے قائم ہوا ہے اس کی بھی اطاعت کرو۔ذیلی تنظیموں ہی کی وجہ سے جماعت کا ہر شخص جماعتی ڈھانچے اور اطاعت کے مضمون کو سمجھتا ہے آج ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اور ہم اس نظام میں پروئے گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کی طرف توجہ دلاتارہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف بھی توجہ دلاتا رہتا ہے اور ہم دوسرے مسلمان فرقوں کی طرح بکھرے ہوئے نہیں بلکہ خلافت کی برکت کی وجہ سے ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے وعدے کے مطابق علوم