سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 89

89 سبیل الرشاد جلد چہارم دو ہرے گناہگار ہو رہے ہوتے ہیں۔دوہرے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ایک اپنے فرائض صحیح طرح انجام نہ دے کر، دوسرے خلیفہ وقت کے اعتماد کوٹھیس پہنچا کر، خلیفہ وقت کے علم میں صحیح صورت حال نہ لا کر۔نمائندے کی حیثیت سے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، عہدیداران کا یہ فرض بنتا ہے کہ خلیفہ وقت کو ایک ایک بات پہنچائیں۔یہ خیال کہ خلیفتہ اسی کو کوئی بات بتلانا تکلیف دہ ہوگا، شیطانی خیال ہے بعض دفعہ بیوقوفی میں بعض لوگ یہ کہہ جاتے ہیں، ان میں عہدیدار بھی شامل ہیں، کہ ہر بات خلیفہ وقت تک پہنچا کر اسے تکلیف میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔عام لوگ بھی جس طرح میں نے کہا کہہ دیتے ہیں کہ اپنی تکلیفیں زیادہ نہ لکھو جو مسائل ہیں وہ نہ لکھو۔وہ کہتے یہ ہیں کہ پہلے تھوڑے معاملات ہیں؟ پہلے تھوڑی پریشانیاں ہیں؟ جماعتی مسائل ہیں جو ان کو اور پریشان کیا جائے۔تو یاد رکھیں ، میرے نزدیک یہ سب شیطانی خیال ہیں ، غلط خیال ہیں۔اللہ تعالیٰ کا براہ راست حکم خلیفہ کے لئے ہے اور کیونکہ کام کے پھیل جانے کی وجہ سے، کام بہت وسیع ہو گئے ہیں، پھیل گئے ہیں، خلیفہ وقت نے اپنے نمائندے مقرر کر دیئے ہیں تا کہ کام میں سہولت رہے۔لیکن بنیادی طور پر ذمہ داری بہر حال خلیفہ وقت کی ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے خلیفہ وقت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے تو پھر اس کی مدد کے لئے وہ تیار رہتا ہے۔کیونکہ خلیفہ بنایا بھی اس نے ہے تو یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ خلیفہ بنائے بھی خود، ذمہ داری بھی اس پر ڈالے اور پھر اپنی مدد اور نصرت کا ہاتھ بھی اس پر نہ رکھے۔اس لئے یہ تصور ہی غلط ہے کہ خلیفہ وقت کو تکلیف نہ دو۔خلیفہ کی جو برداشت ہے اور تکلیف دہ باتیں سنے کا جس قدر حوصلہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہوتا ہے یا خلافت کے انعام کے بعد جس طرح اس کو بڑھاتا جاتا ہے کسی اور کو نہیں دیتا۔اس لئے یہ ساری ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس سے ادا کروانی ہوتی ہے۔بہر حال وہ حوصلہ بڑھا دیتا ہے۔اس لئے یہ تصور غلط ہے کہ تکلیف نہ دو۔کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور تکلیف پہنچانا اس حد تک جائز ہے بلکہ ہر ایک کا فرض ہے۔پس اس تصور کو عہد یداران جن کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ خلیفہ وقت کو تکلیف کیا دینی ہے، وہ ذہن سے یہ بات نکال دیں اور مجھے بھی گناہگار ہونے سے بچائیں اور خود بھی گناہگار ہونے سے بچیں۔اگر اصلاح کی خاطر کسی بڑے آدمی کے خلاف بھی کارروائی کرنی پڑے تو کریں اور اس بات کی قطعا کوئی پرواہ نہ کریں کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے۔اگر فیصلے تقویٰ پر بنی اور نیک نیتی سے کئے گئے ہیں تو یا درکھیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمیشہ آپ کے شامل حال رہے گی۔ورنہ یا درکھیں اگر جماعت احمد یہ البہی جماعت ہے اور یقیناً الہی جماعت ہے تو پھر اس کی رہنمائی بھی اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے، فرماتا رہے گا۔ایک حد تک تو بعض عہد یداران سے صرف نظر ہوگی لیکن پھر یا تو خلیفہ وقت کے دل میں اللہ تعالیٰ ڈال دے گا یا کسی اور ذریعہ