سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 82

82 سبیل الرشاد جلد چہارم انکساری دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بندوں کی عزت کرتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں، ان کے حقوق ادا کرتے ہیں، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں اور یہ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف ہے، صرف اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔صرف اس لئے کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت نے اس کی مخلوق سے محبت پر بھی ان کو مجبور کیا ہے تو یہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے " بے انتہا انعام پانے والے ہیں۔۔۔۔ہر ایک آپس کی رنجش دور کرے یہ وہ روح ہے جو ہر احمدی کے دل میں پیدا ہونی چاہئے۔کیونکہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کے بعد آپ ہی وہ قوم ہیں جن پر دنیا کی اصلاح کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعوی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی خواہش ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی چاہتے ہیں تو پھر اللہ کی مخلوق سے محبت بھی اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے اور اپنے انجام بخیر کے لئے اور اس کے سایہ رحمت میں جگہ پانے کے لئے کرنی ہوگی۔اور جلسے کے یہ دن اس بات کی طرف توجہ پیدا کرنے کے لئے ٹرینگ کے طور پر ہیں۔اس کی ابتدا آج سے ہی ہو جانی چاہئے۔آج سے ہی ہر دل میں یہ ارادہ ہونا چاہئے کہ ہم نے اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں، اپنے معیار اونچے کرنے ہیں۔جو ناراض ہیں وہ ایک دوسرے کو گلے لگائیں ، جو روٹھے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کو منائیں۔جنہوں نے گلے شکوے دلوں میں بٹھائے ہوئے ہیں وہ ان گلوں شکووں کو اپنے دلوں سے نکال کر باہر پھینکیں۔اور ان دنوں میں عبادتوں کے ساتھ ساتھ محبتیں بانٹنے کی بھی ٹریننگ حاصل کریں۔یہ عہد کریں کہ پرانی رنجشوں کو مٹادیں گے۔ایک دوسرے کے گلے اس نیت سے لگیں کہ پرانی رنجشوں کا ذکر نہیں کرنا۔ایک دوسرے سے کی گئی زیادتیوں کو بھول جانا ہے۔کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرنی بلکہ حقیقی مومن بن کر رہنا ہے تا کہ اللہ تعالی کے حضور پیش کی گئی عبادتیں بھی قبولیت کا درجہ پائیں۔اور اللہ کی خاطر اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے کی گئی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگیاں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ پائیں۔اور یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فرمودہ طریق کے مطابق مومن بن جائیں۔تبھی ہم مومن بن سکتے ہیں جب یہ باتیں اپنے اندر پیدا کریں گے جن کے بارے میں ایک روایت میں اس طرح ذکر آتا ہے۔حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو مومنوں کو ان کے آپس کے رہن، محبت اور شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا۔جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کا سارا جسم اس کے لئے بے خوابی اور بخار میں مبتلارہتا ہے۔( صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ والا دب باب تراحم المومنين وتعاطفهم )