سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 69
69 سبیل الرشاد جلد چہارم وقت عہد لیا کہ تنگی ہو یا آسائش، خوشی ہو یا نا خوشی، ہر حال میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے۔نیز ہم ان لوگوں سے جو کام کے اہل اور صاحب اقتدار ہیں، مقابلہ نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ ہم کھلا کھلا کفر دیکھیں اور ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی برہان آ جائے کہ حکام غلطی پر ہیں۔نیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی علامت سے نہیں ڈریں گے اور حق بات کہیں گے۔(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب طاعة الامراء) تو مطلب یہی ہے کہ اطاعت کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ حق بات کہنی ہے۔سوائے شریعت کے واضح حکم کی کوئی خلاف ورزی کر رہا ہو تو پھر اطاعت نہ کریں جس طرح حکومت پاکستان نے احمدیوں پر پابندی لگا دی ہے کہ نمازیں نہیں پڑھنیں تو یہ تو ہمارا ایک حق ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کرنا۔اور شریعت کے قانون پر تو کوئی قانون بالانہیں ہے اس لئے احمدی نمازیں پڑھتا ہے۔اس کے علاوہ ہر ملکی قانون کی ہر طرح پابندی کی جاتی ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو اور اطاعت کرو۔یہ جو دو الفاظ ہیں ان کو اپنا شعار بناؤ، یہی تمہارا طریق ہونا چاہئے۔خواہ ایک حبشی غلام کو ہی کیوں نہ تمہارا افر مقرر کر دیا جائے۔کسی کو حقیر اور کمز ورسمجھتے ہو اگر وہ بھی تمہارا امام ہے تو اطاعت کرو۔( صحیح بخاری کتاب الاحکام باب اسمع والطاعة لامام مالم تكن معصية ) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنے امیر میں کوئی بظاہر نا گوار یا کوئی بری بات دیکھے تو وہ صبر کرے اور کیونکہ جو شخص تھوڑا سا بھی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اور تعلق توڑ لیتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة الى الكفر ) احباب کو عہدیداران میں بُری بات دیکھ کر بھی جماعت سے تعلق نہیں تو ڑنا چاہئے تو صبر سے مراد یہ ہے کہ امیر کی بری بات دیکھ کے یہ نہیں کہ پورے نظام کے خلاف ہو جاؤ۔نظام سے وابستہ رہو اور وہ بات آگے پہنچادو اور اس کے بعد صبر کرو۔جماعت سے تعلق نہیں ٹوٹنا چاہئے۔اگر تمہارا جماعت سے تعلق ٹوٹتا ہے تو یہ جہالت کی موت ہے۔تو جن لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم برداشت نہیں کر سکتے اس لئے ہم ایک طرف ہو گئے نمازوں اور جمعوں پر بھی بعض نے آنا چھوڑ دیا تو فرمایا کہ یہ ایسی حرکتیں ہیں، یہ جہالت کی حرکتیں ہیں۔اکا دکا کوئی واقعات ہوتے ہیں۔اللہ کے فضل سے عموماً ایسا جماعت میں نہیں ہوتا۔یہ جہالت کی حرکتیں جو ہیں ان سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔تمہارا کام یہ ہے کہ صبر کرو اور دعا کرو۔جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری یہ نیک نیتی سے کی گئی دعاؤں کو قبول میں کروں گا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عوف بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی