سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 51
سبیل الرشاد جلد چہارم 51 اپنے مددگاروں میں شمار کر رہا ہو گا کہ تم اس کے حکموں پر عمل کرنے والے ہو اور اس وجہ سے بعض سعید روحیں راہ راست پر آ رہی ہیں ، تمہارے نمونہ کو دیکھ کر سیدھے راستے پر آ رہی ہیں ، ورنہ اللہ کو ہماری مدد کی کیا پرواہ ہے اور کیا ضرورت ہے۔اس کو تو کوڑی کی بھی ضرورت نہیں ہماری ان مردوں کی۔ان رجال میں شمارنے کے لئے دعا کریں جو مسیح موعود کے مددگاروں میں سے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں اس زمانے میں بھی ہمارے پاس بے شمار مثالیں ہیں جن میں خدا تعالے نے براہ راست خوابوں کے ذریعے سے لوگوں کو جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔بعض ایسی ٹھوکریں انکی اصلاح کا باعث بن گئیں جن کی وجہ سے وہ جماعت میں شامل ہو گئے۔پھر اگر جماعت کی ضروریات کا دیکھا جائے تو ایسے ایسے رنگ میں مالی ضروریات بھی اللہ تعالے نے پوری فرما ئیں جب بھی ضرورت ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی اور خلفاء کے زمانے میں بھی۔اور ایسے لوگ جو اس طرح احمدی ہوئے وہ اپنے ایمانوں میں اکثر اوقات ان سے زیادہ مضبوط ہیں جتنا کہ پیدائشی احمدی ہیں۔یہ واقعات اکثر و بیشتر اللہ تعالیٰ اس لئے دکھاتا ہے تا کہ ہمیں بتا سکے کہ تم یہ نہ مجھو کہ جس مشن کو میں اپنے پیاروں کے ذریعے جاری کرتا ہوں اس کو پھیلانے کے لئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔یہ تو میں اپنے بندوں پر خود بھی ظاہر کر سکتا ہوں۔ان کو راہ راست پر لانے کے طریقے اور بھی ہیں۔اور اسی لئے وقتاً فوقتاً نمونے دکھاتا بھی رہتا ہوں۔اللہ تعالے فرماتا ہے تا کہ تم لوگ یہ نہ سمجھو کہ بندوں پر انحصار ہے اللہ تعالے کے کاموں کا تمہیں تو ثواب کا مستحق بنانے کے لئے ، ان نیکیوں پر قائم رکھنے کے لئے تمہیں اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے یہ موقع دیا ہے کہ اگر تم زمانے کے امام پر ایمان لائے ہو تو اس کے شکرانے کے طور پر اللہ تعالے کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے اس کام میں میرے پیاروں کا ہاتھ بٹاؤ۔جوتعلیم اس نے دی ہے اس پر عمل کرو اور اپنے نیک نمونے قائم کرو تا کہ تمہیں دنیا اور آخرت کے انعاموں کا وارث بنایا جائے۔ورنہ خدا تعالیٰ نے جو وعدے اپنے پیاروں سے کیسے ہوتے ہیں ان کی وجہ سے ان کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اگر فلاں شخص نے میری مددنہ کی تو غلبہ کس طرح ہوگا۔یا اگر فلاں حکومت نے مخالفت کی تو میرے کام کیسے آگے بڑھیں گے، میری جماعت کس طرح پھیلے گی۔اگر چند لوگ وعدہ کر کے بھول بھی جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی مدد کے لئے اور لوگ لے آتا ہے اور جماعت پیدا کر دیتا ہے۔ظالم حکومتوں سے بھی خود نپٹ لیتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ وعدے کئے ہوئے ہیں اور وقتا فوقتا اپنی اس قدرت کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے اور تقریباً ہر احمدی جس کا جماعت کے نظام سے پختہ تعلق ہے اس کو اس کا تجربہ ہے۔بہت سارے مواقع پر یہ اظہار ہوتے رہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کواللہ تعالیٰ نے الہاما بتایا تھا کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوْحِيْ