سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 46
سبیل الرشاد جلد چہارم 46 کے حقوق ادا کر رہے ہیں۔ایسی صورت میں جب ہر کوئی اپنا جائزہ لے تو ہر ایک کو اپنا علم ہو جائے گا کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔۔۔۔۔قرآن کریم کو خوش الحانی سے پڑھنا چاہئے۔۔۔۔قرآن کریم کے پڑھنے کے بھی کچھ آداب ہیں اس کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔حضرت عبداللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تین دن سے کم عرصے میں قرآن کریم کو ختم کیا اس نے قرآن کریم کا کچھ نہیں سمجھا۔(ترمذی ابواب القراء ة ) بعض لوگوں کو بڑا فخر ہوتا ہے کہ ہم نے اتنے دن میں ، ایک دن میں یا دو دن میں سارا قرآن کریم ختم کر لیا۔یا ہم نے اتنے منٹ میں سیپارے ختم کر دیئے یا اتنا سیپارہ ختم کر دیا۔بلکہ رمضان کے دنوں میں تو پاکستان میں ( اور جگہوں پہ بھی ہوگا ) غیروں کی مسجدوں میں مقابلہ ہوتا ہے کہ کون جلدی تراویح پڑھاتا ہے۔۔۔۔۔حکم یہ ہے کہ قرآن کریم غور سے اور سمجھ کر پڑھو پھہر ٹھہر کر پڑھو۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کریم خوش الحانی سے اور سنوار کر نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔(ابوداؤد كتاب الصلوة باب كيف يستحب الترتيل في القراءة) تويد مزيد کھل گیا کہ ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ مجھ کر پڑھنا چاہئے۔اور کس طرح پڑھنا چاہئے؟ اس کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے۔جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے۔اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے۔اور ان بداعمالیوں سے نیچے جن کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔بلا مد دوجی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے، اور ایسی راے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ محدثات میں داخل ہوگی۔رسم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے۔اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تدبر میں لگاوے۔دل کی اگر تختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لئے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمت الہی میرے بھی شامل حال ہو۔قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے پھر آگے چل کر ایک اور قسم کا پھول چنتا ہے۔پس چاہئے کہ ہر ایک مقام کے مناسب حال فائدہ اٹھاوے۔اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے۔ورنہ پھر سوال ہوگا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی۔خدا تعالی کے سوا اور کس کی طاقت ہے کہ کہے فلاں راہ سے اگر سورۃ یاسین پڑھو گے تو برکت ہوگی