سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 338
سبیل الرشاد جلد چہارم 338 241 مجالس ہیں، ہر مجلس کم از کم ایک ایک لگائے تو 241 درخت ہو جائیں گے۔حضور انور نے فرمایا: 241 مجالس میں سے ہر مجلس سے آپ کا وفد میئر کے پاس جائے اور اجازت لے۔اجازت نہ ملے تو آپ کا فرض ادا ہو گیا۔اصل بات یہ ہے کہ جماعت کا تعارف ہو۔جو درخت لگانے ہیں وہ انصار اپنے علیحدہ علیحدہ اور خدام اپنے علیحدہ لگا سکتے ہیں۔اس طرح درخت بھی زیادہ لگیں گے اور تعارف بھی بڑھے گا۔حضورانور نے فرمایا: سڑکیں صاف کرنا اچھی بات ہے۔ان کو کم از کم یہ پتہ لگ جائے کہ جماعت احمد یہ یہ کام کرتی ہے۔تعارف کے بعد ہی تبلیغ کے میدان کھلتے ہیں۔جو غلط تاثر مسلمانوں کے خلاف ہے وہ دور ہو جاتا ہے۔حضور انور نے فرمایا: اپنے تبلیغی میدان کو بڑھائیں۔وسعت دیں اور مجالس کو تاکید کریں کہ پودے لگائیں۔اس کا آپ کا اچھا اثر پڑے گا اور غلط فہمیاں دور ہوں گی۔حضور انور نے فرمایا کھڑ کی لگا رہے ہیں روشنی کے لئے تو اذان کی آواز بھی سن لیں۔قائد تعلیم نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سہ ماہی کا نصاب مقرر ہے اور امتحان لیا جاتا ہے۔جو امتحان لیا گیا ہے اس میں 1497 انصار کے پرچے واپس آئے ہیں۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ صف اول کے انصار نے زیادہ حصہ لیا ہو گا۔حضور انور نے فرمایا صف دوم کے انصار کو بھی اس طرف لے کر آئیں کہ وہ امتحان میں حصہ لیں۔اصل یہ ہے کہ حصہ لینے والوں کی تعداد بڑھائیں۔اس طرح زیادہ سے زیادہ انصار نصاب کا مطالعہ کریں گے اور ان کا علم بھی بڑھے گا۔۔۔۔قائد تعلیم القرآن کو مخاطب ہوتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ وقف عارضی کی طرف توجہ دیں اور انصار وقف عارضی کر کے قرآن کریم پڑھائیں۔تلفظ ٹھیک کروائیں، انصار جو فارغ ہیں ان سے وقف عارضی کروائیں۔مختلف جگہوں پر پندرہ دنوں کے لئے جا کر کام کریں۔شعبہ تبلیغ کے ساتھ مل کر طے کریں۔وقف عارضی کے دوران لیف لیٹس بھی تقسیم کریں۔وقف عارضی کر کے تقسیم کریں۔تعلیم القرآن کلاسز ، تجوید کلاسز اور ترجمۃ القرآن کلاسز کا اجراء ہو۔حضورانور نے فرمایا: اسی طرح قرآن کریم کے سیمینار کروائیں اور یہ بات بھی اپنے جائزہ میں رکھیں کہ انصار روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہوں۔اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔قائد تبلیغ نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ امسال اب تک 41 بیعتیں کروائی ہیں اور ان کا تعلق چھ قوموں، البانین، جرمن، تیونس، گرد، پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہے۔ان 41 نومبائعین میں سے جو انصار ہیں وہ انصار کے شعبہ تربیت نو مبائعین کے پاس ہیں اور باقی جو لجنہ وغیرہ ہے وہ لجنہ کے انتظام کے