سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 278
278 سبیل الرشاد جلد چہارم ہیں۔پھر ماں باپ کو شکوہ ہوتا ہے کہ بچے بگڑ رہے ہیں۔پھر بعض دفعہ ایسی صورت ہوتی ہے کہ نمازوں کی ادا ئیگی میں تو بظاہر باپ بڑا اچھا ہوتا ہے لیکن بیوی اور بچوں کے ساتھ اس کے سلوک کی وجہ سے بچے نہ صرف باپ سے دور ہٹ جاتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ کو اس کی نمازوں نے اتنا خشک مزاج اور سخت طبیعت کا کر دیا ہے اور وہ نمازیں پڑھنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔یا اگر انکاری نہیں ہوتے تو نہ پڑھنے کے سو بہانے تلاش کرتے ہیں۔نمازوں کی حفاظت اور اس کا حق ادا کرنے کی معانی پس نمازوں کی حفاظت اور اس کا حق ادا کرنا یہ بھی ہے کہ ایسی نمازیں ادا ہوں جو ہر قسم کے اخلاق کو مزید صیقل کرنے والی ہوں۔بیویوں کے بھی حقوق ادا ہورہے ہوں اور بچوں کے بھی حقوق ادا ہور ہے ہوں۔چالیس سال کی عمر جیسا کہ میں نے کہا بڑی پختگی کی عمر ہے لیکن اس عمر میں اگر ہم جائزے لیں تو بہت سے ایسے لوگ نکل آئیں گے جو اپنی نمازوں کی بھی حفاظت نہیں کرتے۔اپنے فرائض کو ادا نہیں کر رہے ہوتے۔تو پھر اپنے بچوں سے کس طرح امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ نیکیوں پر قائم ہوں۔یا ان کی کیا ضمانت ہے کہ وہ احمدیت کے ساتھ جڑے رہیں گے۔انصار کو تہجد کا قیام التزام سے کرنا چاہئے ہم اپنے شہداء کا ذکر سنتے ہیں۔ایک چیز خصوصیت سے ان میں نظر آتی ہے۔عبادت اور ذکر الہی کی طرف توجہ۔جس طبقہ کے لوگ بھی تھے ان کی اس طرف توجہ تھی۔اور اپنے بچوں سے انتہائی پیار کا تعلق اور ان کو دین سے جوڑے رکھنا۔اور بچوں پر بھی ان کی باتوں کا ایک نیک اثر تھا۔پس یہ وہ لوگ ہیں جو انصار اللہ ہونے کا حق ادا کرنے والے ہیں۔پس میں پھر انصار اللہ سے کہتا ہوں کہ اگر وہ انصار اللہ کا حق ادا کرنے والے بننا چاہتے ہیں تو اپنی نمازوں اور اپنی عبادتوں کی نہ صرف خود حفاظت کریں بلکہ اس کا حق اپنی نسلوں میں عبادت کرنے والے پیدا کر کے ادا کریں۔پھر آپ نے اپنی شرائط بیعت میں اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ فرائض نمازوں کے ساتھ تہجد اور نوافل کی طرف بھی توجہ دو۔پینسٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ کر تو شاید ایک تعداد تہجد پڑھتی بھی ہو اور ان کو خیال بھی آجاتا ہو۔لیکن انصار کی جو ابتدائی عمر ہے اس میں بھی تہجد کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں یقیناً ایک تعداد ہے جو تہجد کا التزام کرنے والی ہے۔بلکہ خدام میں بھی ہیں۔لیکن انصار میں یہ تعداد ا کثریت میں ہونی چاہئے۔انصار اللہ کا نام جو چالیس سال سے اوپر کی مردوں کی تنظیم کو دیا گیا ہے اور جو پیغام نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کے اعلان میں ہے وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر غیر معمولی قربانی پیش کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔اور دین کے قیام کے لئے ہم اپنی ہر کوشش اور ہر