سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 272
سبیل الرشاد جلد چہارم 272 اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت کی صداقت پر ہی شک کرنے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح مخالفین کی طرف سے تکالیف اور دشمنیاں کمزور ایمان والوں کو ابتلاؤں میں ڈال دیتی ہیں۔پس مومن کا امتحان اس کو مزید صیقل کرنے کے لئے ہے۔اس کو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے کے لئے ہے اور من حیث الجماعت، جماعت کے لئے کامیابی کے نئے راستے کھولنے کے لئے ہے، نہ کہ مغلوب کرنے کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " جو لوگ خدائی امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں پھر ان کے واسطے ہر طرح کے آرام و آسائش رحمت اور فضل کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 460 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تکالیف کا نتیجہ تھا کہ مکہ فتح ہوگیا" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 299 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) ابتلاء فتوحات کے دروازے کھولنے کے لئے آتے ہیں پس یہ ابتلاء انبیاء اور انبیاء کی جماعتوں کے لئے فتوحات کے دروازے کھولنے کے لئے ہیں۔اگر ہم اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے جو بھی ابتلاء اور امتحان آئیں گے، ان میں سے کامیابی سے گزرنے کی کوشش کرتے رہے تو رحمت اور فضل کے دروازے ہم پر بھی کھلتے چلے جائیں گے۔انشاء اللہ۔جب اللہ تعالیٰ نے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي (المجادلہ : 22) فرمایا تو ساتھ ہی فرمایا کہ یہ یقینی غلبہ اس لئے ہے کہ إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (المجادلہ: 22) کہ یعنی اللہ تعالیٰ قوی ہے ، مضبوط ہے اور تمام طاقتوں والا ہے۔وہ عزیز ہے۔وہی ہے جو اپنی تمام صفات کی وجہ سے قابلِ تعریف ہے۔وہ نا قابلِ شکست ہے اور ہر چیز پر غالب ہے۔پس یہ ہمیشہ ہمیں اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے اور آپ کی قائم کردہ جماعت نے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق غالب تو انشاء اللہ تعالیٰ آنا ہے۔راستے کی مشکلات نا کامی کی نہیں بلکہ کامیابی کی علامت ہیں۔اگر ہم تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اور اپنے بچوں کی اصلاح کی طرف نظر رکھیں گے، اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اس نظام کا حصہ بنائے رکھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا تو ہم بھی اس رحمت اور فضل کے حاصل کرنے والے بن جائیں گے جو خدا تعالیٰ نے جماعت کے لئے مقدر کئے ہوئے ہیں۔اور ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی انشاء اللہ تعالیٰ فتوحات دیکھیں گی۔اگر ہم میں سے کوئی عمر کے اس حصے میں پہنچا ہوا ہے جہاں بظاہر زندگی کا کچھ حصہ نظر آ رہا ہے، بڑی عمر ہے، ویسے تو کسی کا نہیں پتہ کہ کب قضا آ جائے، لیکن بہر حال بڑی عمر کے لوگوں کو زیادہ فکر ہوتی ہے۔جو اس میں بھی پہنچا ہوا ہے تو جس طرح بچوں کی دنیاوی بہتری کے لئے بڑی عمر کے لوگوں کو فکر ہوتی ہے، بڑا تر و د ہوتا ہے، اسی طرح اسے دینی حالت کی بہتری اور