سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 252
252 سبیل الرشاد جلد چہارم اور ہمیشہ جاری رہے گا۔پس اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ، اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہوئے ہمیشہ یہ کوشش کرتے چلے جانا چاہئے کہ ہر فرد ناصر دین بنار ہے اور اس کا حق ادا کرنے والا ہو۔دنیا میں ہم جو جماعتی ترقیات دیکھ رہے ہیں یہ کسی فرد کی یا کسی خاص جماعت کی یا وہاں کے انصار کی مرہون منت نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور جماعت کی من حیث الجماعت ایک کوشش ہے جس میں خدا تعالیٰ برکت ڈال رہا ہے۔جس کے پھل آج ہم کھا رہے ہیں اور انشاء اللہ کھاتے چلے جائیں گے۔ہمارے بڑوں نے انصار اللہ ہونے کا حق ادا کیا اور بے نفس ہو کر دین کی خاطر قربانیاں کیں۔آج یہ ہمارا فرض ہے کہ ایک خاص کوشش اور دعا کے ساتھ ساتھ اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے راستے ہموار کرتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ " میں بار بار اور کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ظاہری نام میں تو ہماری جماعت اور دوسرے مسلمان دونوں مشترک ہیں تم بھی مسلمان ہو وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔تم کلمہ گو ہو وہ بھی کلمہ گو کہلاتے ہیں، تم بھی اتباع قرآن کا دعویٰ کرتے ہو وہ بھی اتباع قرآن کے مدعی ہیں۔غرض دعووں میں تم اور وہ دونوں برابر ہومگر اللہ تعالیٰ صرف دعووں سے خوش نہیں ہوتا جب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو اور دعویٰ کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو بیعت کی حقیقت سے پوری واقفیت حاصل کرنی چاہئے اور اس پر کار بند ہونا چاہئے اور بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر کچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کر کے دکھاوے۔اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں "۔فرماتے ہیں " نصیحت کرنا اور بات پہنچانا ہمارا کام ہے۔یوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص اور محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔ہزار ہا انسان ہیں جنہوں نے محبت اور اخلاص میں تو بڑی ترقی کی ہے مگر بعض اوقات پرانی عادات یا بشریت کی کمزوری کی وجہ سے دنیا کے امور میں ایسا وافر حصہ لیتے ہیں کہ پھر دین کی طرف سے غفلت ہو جاتی ہے۔ہمارا مطلب یہ ہے کہ بالکل ایسے پاک اور بے لوث ہو جاویں کہ دین کے سامنے امور دنیوی کی حقیقت نہ سمجھیں اور قسم قسم کی غفلتیں جو خدا سے دوری اور مہجوری کا باعث ہوتی ہیں وہ دور ہو جاویں" فرمایا۔پس ضروری ہے کہ جو اقرار کیا جاتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اس اقرار کا ہر وقت مطالعہ کرتے رہو اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا عملی عمدہ نمونہ پیش کرو۔عمر کا اعتبار نہیں۔دیکھو ہر سال میں کئی دوست ہم سے جدا ہو جاتے ہیں" (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 605,604) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس نہج پر چلانے والے ہوں۔اپنی عبادتوں کے معیار اس حد تک لے جانے والے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول ہم سے چاہتے ہیں اور جن کی تلقین