سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 208 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 208

208 سبیل الرشاد جلد چہارم وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفا دار اور صادق خدا ہے، وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو " (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305-306) پس جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا وہ وقت بھی آگیا جب آپ علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے اور ہر احمدی کا دل خوف و غم سے بھر گیا لیکن مومنین کی دعاؤں سے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کرتے ہوئے ط زمین و آسمان نے پھر ایک بار وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمُنًا (النور: 56 ) کا نظارہ دیکھا۔وہ ر عظیم انقلاب جو آپ نے اپنی بعثت کے ساتھ پیدا کیا تھا اسے اللہ تعالیٰ نے خلافت کے عظیم نظام کے ذریعہ جاری رکھا۔آپ کی وفات پر اخبار وکیل میں مولانا ابوالکلام آزاد نے یوں رقم فرمایا:۔شخص بہت بڑا الشخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جود ماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تارا لجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔۔۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے اور مٹانے کے لئے اسے امتدادزمانہ کے حوالے کر کے صبر کر لیا جائے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔“ (اخبار وکیل امرتسر بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه 560) پس اس انقلاب کا اعتراف غیروں کی زبان اور قلم سے نکلوا کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ وہ شخص اللہ تعالی کا خاص تائید یافتہ تھا لیکن غیر کی نظر اس طرف نہ گئی کہ وہ تائید یافتہ جس انقلاب کو بر پا کر گیا ہے اس