سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page xiv of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page xiv

سبیل الرشاد جلد چہارم xiii بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ آج جب دنیا ، خلافت کے لئے تشنہ اور اس کی متلاشی ہے۔خوش قسمت ہے جماعت احمد یہ جو ایک صدی سے زائد عرصہ سے یہ انعام پا کر اس کی برکات سے بھی مستفیض ہورہی ہے۔خلیفہ نبی کا خلق اور اس کی صفات کا پر تو ہوتا ہے۔دراصل نبوت و رسالت کی برکات کو جاری رکھنے کے لئے ہی اللہ تعالیٰ خلافت کا سلسلہ جاری فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ خلفاء کی بڑی علامت یہ ہے کہ وہ خود ان کا متکفل ہوتا ، ان کی تائید ونصرت فرما تا اور حسب حالات و ضرورت ان کی رہنمائی فرماتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام امام الزمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کے فضل سے علوم الہیہ میں اس کو بسطت عنایت کی جاتی ہے۔۔۔علوم حقہ کے جاننے میں نو رفر است اس کی مدد کرتا ہے اور وہ نوران چھمکتی ہوئی شعاعوں کے ساتھ دوسروں کو نہیں دیا جاتا۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔پس جس طرح مرغی انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے لے کر ان کو بچے بناتی ہے اور پھر بچوں کو پروں کے نیچے رکھ کر اپنے جو ہر ان کے اندر پہنچا دیتی ہے۔اسی طرح یہ شخص اپنے علوم روحانیہ سے صحبت یا بوں کو علمی رنگ سے رنگین کرتا رہتا ہے اور یقین اور معرفت میں بڑھاتا جاتا ہے۔“ ( ضرورة الامام ، روحانی خزائن جلد نمبر 13 صفحہ 480) ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفتہ امسح الامس ایدہ اللہ تعالی کے حق میں یہ علامت بھی بڑی شان سے پوری ہوئی۔1903ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خوش و خرم باش“ کے الہام میں آئندہ جماعت کی ترقیات کی نوید مسرت دیتے ہوئے مسرور کے اسم بامسمی سے یاد کر کے الہاماً إِنِّي مَعَكَ يَا مَسْرُور “ کا مژدہ جانفزا سنایا۔اس کے ٹھیک سوسال بعد اللہ تعالیٰ نے 2003ء میں رجل فارس اور نبیرہ مسیح موعود حضرت مرزا